سلسلہ احمدیہ — Page 486
486 آنحضرت ﷺ نے اس کے بارے میں کیا راہنمائی فرمائی ہے۔یہ باتیں سمجھے بغیر تو یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کون جہاد کا منکر ہے اور کون جہاد کا منکر نہیں ہے۔سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ جہاد کا حکم کب نازل ہوا اور آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے اس کی کیا تشریح فرمائی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاد کا حکم آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کے مکی دور میں نازل ہو چکا تھا۔اللہ تعالیٰ سورۃ فرقان میں ارشاد فرماتا ہے۔فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) یعنی کافروں کی پیروی نہ کر اور اس کے ذریعہ ان سے ایک بڑا جہاد کر۔اور مفسرین اس آیت کریمہ میں اس آیت سے یہی مطلب لیتے رہے ہیں کہ اس میں قرآنِ کریم کے ذریعہ جہاد کرنے کا حکم ہے۔چنانچہ تفسیر کی مشہور کتاب فتح البیان میں یہی لکھا ہوا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جہاد سے صرف یہی مراد تھی کہ قتال کیا جائے اور جنگ کی جائے تو ناممکن تھا کہ اس حکم کے بعد رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں ہی بلا تو قف قتال اور جنگ شروع نہ کر دیتے۔جب کہ اس وقت مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی ہر طرح ساب کی جارہی تھی۔لیکن ایسا نہیں ہوا اور جب قرآنِ کریم میں قتال کی مشروط اجازت مدنی زندگی میں نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں انتہائی مجبوری کی حالت میں تلوار اُٹھانی پڑی۔پھر مکہ میں نازل ہونے والی ہونے والی سورتوں میں جہاد کرنے والوں کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔چنانچہ سورۃ نحل جو کہ مکہ میں نازل ہوئی تھی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَهَدُوْا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (النحل: (۱) ترجمہ: پھر تیرا رب یقیناً ان لوگوں کو جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ فتنہ میں مبتلا کئے گئے پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا تو یقیناً تیرا رب اس کے بعد بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ تو مکی زندگی میں نازل ہونے والی آیت ہے۔اس وقت بھی مسلمان جہاد کا عظیم فرض ادا کر رہے تھے۔اگر چہ باوجود سخت آزمائشوں کے قتال نہیں کیا جارہا تھا۔جبکہ اس وقت مسلمان جہاں پر رہ