سلسلہ احمدیہ — Page 367
367 بیاہ کرنے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے اور اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے بات چیت کرنے اور تمام معاملات میں اس کا حکم وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے۔(۵۳) اور کفر کے یہ فتووں کا سلسلہ ایک صدی پہلے شروع نہیں ہوا بلکہ صدیوں سے یہ عالم چلا آرہا ہے۔مثلاً فتاوی عالمگیری میں مختلف ماخذ کے حوالہ سے مختلف صورتیں درج ہیں جن میں ایک شخص پر کفر کا فتوی لگتا ہے۔صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے اپنے ایمان میں شک کیا اور کہا میں ایماندار ہوں انشاء اللہ تو وہ کافر ہے۔جس شخص نے قرآن یعنی کلام اللہ کی نسبت کہا کہ اللہ کا کلام مخلوق ہے تو وہ کافر ہے۔اگر کسی نے ایمان کو مخلوق کہا تو وہ کافر ہے۔اگر کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انصاف کے واسطے بیٹھا ہے یا کھڑا ہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر کہا کہ میرا آسمان پر خدا اور زمین پر فلاں تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اگر کسی سے کہا گیا کہ بہت نہ کھایا کر خدا تجھے دوست نہیں رکھے گا اور اس نے کہا میں تو کھاؤں گا خواہ مجھے دوست رکھے یا دشمن تو اس کو کافر کہا جائے گا۔اور اسی طرح اگر کہا کہ بہت مت ہنس یا بہت مت سویا بہت مت کھا اور اس نے کہا کہ اتنا کھاؤں گا اور اتنا ہنسوں گا اور اتنا سوؤں گا جتنا میرا جی چاہے تو اس کی تکفیر کی جائے۔اگر کسی سے کہا گیا کہ خداے تعالیٰ نے چار بیویاں حلال کی ہیں اور وہ کہے کہ میں اس حکم کو پسند نہیں کرتا تو یہ کفر ہے۔اگر کسی نے امامت ابوبکر سے انکار کیا تو وہ کافر ہے۔اور اگر کسی نے خلافت حضرت عمر سے انکار کیا تو وہ بھی اصح قول کے مطابق کا فر ہے۔اگر کسی نے کہا کہ کہ کاش حضرت آدم گیہوں نہ کھاتے تو ہم لوگ شقی نہ ہوتے تو اس کی تکفیر کی جائے۔ایک نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اگر گواہ حاضر نہ ہوئے اور اس نے کہا خدا اور فرشتوں کو گواہ کیا تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر کسی نے رمضان کی آمد کے وقت کہا بھاری مہینہ آیا تو یہ کفر ہے۔اگر ایک شخص مجلس علم سے آتا ہے اور کسی نے کہا کہ تو بت خانہ سے آتا ہے تو یہ کفر ہے۔اگر کسی نے کہا کہ مجھے جیب میں روپیہ چاہئے میں علم کو کیا کروں تو تکفیر کیا جائے گا۔اگر کسی نے فقیر کو مال حرام میں سے کچھ دے کر ثواب کی امید رکھی تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔اور اگر فقیر نے یہ بات جان کر دینے والے کو دعا دی اور دینے والے نے اس پر آمین کہی تو کافر ہوا (۵۴)۔اس دور میں تو علماء نے تکفیر کے دائرہ کو اور بھی وسیع کر دیا ہے۔چنانچہ ۱۹۷۸ء میں جمعیت العلماء پاکستان کے ایک لیڈر مفتی مختار احمد گجراتی نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ