سلسلہ احمدیہ — Page 368
368 دیکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا (۵۵)۔اور اس پارٹی کے اراکین اسمبلی کے اس اجلاس میں بھی موجود تھے۔بلکہ جمعیت العلماء پاکستان کے قائد شاہ احمد نورانی صاحب نے تو جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قرارداد پیش بھی کی تھی۔تو اگر یہ اصول تسلیم کیا جائے کہ جس فرقہ کی تحریر میں دوسرے فرقہ یا کسی گروہ کے متعلق کفر کا فتویٰ موجود ہے تو اسے آئین میں ترمیم کر کے قانونی طور پر غیر مسلم قرار دینا چاہئے تو پھر اس زد سے کوئی فرقہ نہیں بچ سکے گا۔اور پاکستان کے آئین کے مطابق یہاں پر صرف غیر مسلم اکثریت ہی بس رہی ہوگی۔۶ راگست کی کارروائی ۶ راگست کو اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔ابھی جماعت کا وفد اسمبلی میں نہیں آیا تھا۔مگر معلوم ہو رہا تھا کہ آج کچھ حوالے پیش کر کے جماعت کے وفد کو لا جواب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔سپیکر صاحب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی سہولت کے لئے کتابیں سامنے ہی رکھ دی جائیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ وہ موجود ہیں۔سپیکر صاحب نے پھر تاکید کی کہ اٹارنی جنرل صاحب کے آس پاس Least Disturbance ہونی چاہئے۔ان کے ارد گرد کوئی سرگوشی نہیں ہونی چاہئے۔یہ اہتمام غالباً اس لئے کیا جارہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب پوری یکسوئی سے سوال کر سکیں۔اس سے قبل کہ حضور وفد کے ہمراہ ہال میں تشریف لاتے ایک ممبر جہانگیر علی صاحب نے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی صاحب سے کہا a Mr۔Chairman interpretation of document or writting is not the job of witness۔I would therefore request that the witness should not be allowed to interpret; it is the job of the presiding officer or the judge۔یعنی وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک تحریر یا دستاویز سے استدلال کرنا گواہ کا کام نہیں ہوتا۔یہ کاروائی