سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 281 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 281

281 بے قصور ہیں انہیں کس جرم کی بنا پر آپ کے حوالے کیا جائے۔لیکن وہ مصر رہے اور کالج کے لڑکوں کو ہراساں کیا گیا ہاسٹل کا گھیراؤ کر لیا گیا۔لیکن پھر کالج سے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کا ارادہ ترک کر دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث سٹیشن کے واقعہ کے وقت ربوہ سے باہر اپنے فارم نصرت آباد تشریف لے گئے تھے ، آپ اسی روز واپس ربوہ تشریف لے آئے۔یہاں ایک اور بات کا ذکر بے جانہ ہوگا۔ہم سے انٹرویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا کہ میں نے کابینہ کے سامنے حنیف رامے سے پوچھا کہ واپسی پر نشتر کے طلباء کی بوگی دوسرے راستے سے بھی آسکتی تھی۔پھر انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب نے کہا کہ مجھے اب تک پتا نہیں چلا کہ رامے کس کے ساتھ ہے۔بعد میں رسالہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کا شمیری صاحب نے تحقیقاتی ٹریبونل کے رو برو بیان دیا کہ جب ۲۹ مئی کو ربوہ کے سٹیشن پر واقعہ ہوا ہے اس رات وزیر اعظم بھٹو کے سیکریٹری مسٹر افضل سعید نے فون کیا کہ بعض بیرونی طاقتیں پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں ہم سب کو چاہئے کہ ہم داخلی امن برقرار رکھیں۔اور اس کے ساتھ یہ الزام بھی لگایا کہ قادیانی وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش کرتے رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ فسادات سے فائدہ اُٹھا کر ملک میں اپنا اقتدار قائم کر لیں۔(امروز یکم اگست ۱۹۷۴ ص اول و آخر ) شروع ہی سے اس بات کے آثار ظاہر ہو گئے تھے کہ ایک ملک گیر فسادات شروع کئے جارہے ہیں اور جس فتنہ کی تمہید کچھ سالوں سے باندھی جا رہی تھی اس کی آگ کو منظم طور پر اور حکومت کی آشیر باد کے ساتھ بھڑکایا جا رہا ہے۔حضور نے چند احباب کو پرائیویٹ سیکریٹری کے دفتر میں طلب فرمایا اور حضور کی نگرانی میں ایک سیل نے مرکز میں کام شروع کر دیا۔ہر طرف سے فسادات کی اور احمدیوں پر ان کے گھروں ، مساجدوں اور دوکانوں پر حملہ کی خبریں آرہی تھیں۔جو اطلاع ملتی پہلے حضور اقدس اسے خود ملاحظہ فرماتے اور پھر قصر خلافت میں ایک گروپ مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کی زیر نگرانی کام کر رہا تھا، وہ اس اطلاع کے مطابق متاثرہ احمدی دوستوں کی مدد کے لئے اقدامات اُٹھائے جاتے اور ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے رضا کار روانہ کیے جاتے۔اس کام کے لیے ضلع سرگودھا سے تعلق رکھنے والے رضا کا ر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔اس دور میں شہر سے باہر فون ملانا بھی ایک نہایت مشکل امر تھا۔پہلے کال بک کرائی جاتی اور پھر گھنٹوں اس کے ملنے یا نہ ملنے کا