سلسلہ احمدیہ — Page 282
282 انتظار کرنا پڑتا اور اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ تھا کہ مرکز سلسلہ کی تمام فون کالیس ریکارڈ کر کے ان کے ریکارڈ کو حکومت کے حوالے کیا جا رہا تھا۔اس لیے جماعتوں سے رابطہ کی یہی صورت تھی کہ ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آدمی بھجوائے جائیں۔مرکز میں کام کرنے والا یہ سیل اس بات کا اہتمام کر رہا تھا کہ ہر واقعہ کی اطلاع وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عہد یداروں کو با قاعدگی سے دی جائے۔اس سیل میں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب، مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ناظر صاحب امور عامہ، مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ، مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کام کر رہے تھے۔جب ان فسادات کا آغاز ہوا تو کام کا دباؤ اتنا تھا کہ حضور اقدس اور ان کے ساتھ کام کرنے والے رفقاء کو کچھ راتیں چند لمحے بھی سونے کا وقت نہیں مل سکا اور کچھ روز مسلسل جاگ کر کام کرنا پڑا۔بیرونِ پاکستان کی جماعتوں کو بھی حالات سے مطلع رکھنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ احمدیوں پر ہونے والے مظالم سے عالمی پریس اندھیرے میں نہ رہے۔حکومت پاکستان اور جماعت کے مخالف حلقوں کی یہ بھر پور کوشش تھی کہ پوری دنیا کو اندھیرے میں رکھا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے لندن مشن کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ پوری دنیا کی جماعتوں کو پاکستان میں ہونے والے واقعات سے باخبر رکھے۔چنانچہ فسادات کے دوران ہفتہ میں دومرتبہ پاکستان سے لندن اطلاعات بھجوائی جاتی تھیں۔لندن سے تمام جماعتوں کو حالات سے مطلع رکھا جاتا۔حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے لندن میں ایک پریس کا نفرنس بلوائی۔اس پریس کانفرنس میں عالمی پریس کے نمائندے شریک ہوئے۔اس طرح حقیقت حال عالمی پریس تک پہنچ گئی۔یہ بات پاکستان کے سفارت خانہ کو سیخ پا کرنے کے لئے کافی تھی۔پاکستان کے سفارت خانہ کے ایک افسر نےلندن مشن کے انچارج کو ملاقات کے لیے بلایا اور اس بات پر بہت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ سلسلہ فوراً بند ہونا چاہئے۔انہیں جواب دیا گیا کہ پاکستان میں احمدیوں پر مظالم کا سلسلہ بند کر دیا جائے تو یہ سلسلہ بھی بند کر دیا جائے گا۔(۹) اگلے روز ہی پنجاب کے مختلف مقامات پر فسادات کی آگ بھڑک اُٹھی۔اور ۳۰ مئی کو چنیوٹ، چک جھمرہ، لائلپور، گوجرہ، مانانوالا ، شورکوٹ ، خانیوال، ملتان، بہاولپور، صادق آباد ضلع ساہیوال، ڈنگا، راولپنڈی، اسلام آباد، کوہاٹ ، ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودہا میں فسادات ہوئے جن