سلسلہ احمدیہ — Page 255
255 بھر میں پھیلایا جائے۔ایک بہتر سوسائٹی کے قیام کے لیے کوششیں کی جائیں، مسلم امہ میں تفرقہ دور کیا جائے۔ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو عالم اسلام کی ایک لیگ قائم کرنے میں حائل ہیں۔وغیرہ۔لیکن عملاً اس تنظیم سے تفرقہ اور فساد پیدا کرنے کا کام لیا گیا۔یہ تنظیم سعودی فرمانرواؤں کے زیر اثر کام کرتی ہے۔لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کا نفرنس کے اختتام کے صرف ڈیڑھ ماہ کے بعد اس کا ایک اجلاس مکہ مکرمہ میں منعقد کیا گیا۔اس میں مختلف مسلمان ممالک کے وفود نے شرکت کی۔اس میں ایک سب کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے متعلق بھی کئی تجاویز پیش کی گئیں۔اس کمیٹی کا نام کمیٹی برائے Cults and Ideologies تھا۔اس کے چیئر مین مکہ مکرمہ کی ام القری یونیورسٹی میں اسلامی قانون کے Associate پروفیسر مجاہد الصواف تھے۔اس کمیٹی کے سپر د بہائیت ، فری میسن تنظیم صیہونیت اور جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز تیار کرنے کا کام تھا۔اس کمیٹی میں سب سے زیادہ زور وشور سے بحث اس وقت ہوئی جب اجلاس میں جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیالات ہوا۔اور اس بات پر اظہار تشویش کیا گیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی ،ملٹری اور سیاست میں احمدیوں کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔اور یہ ذکر بھی آیا کہ اگر احمدی غیر مسلم بن کر رہیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احمدی افریقہ اور دوسری جگہوں پر اپنے آپ کو عالم اسلام کی ایک اصلاحی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور اس بات پر اظہار تشویش کیا گیا کہ قادیانیوں نے حیفا میں اسرائیلی سرپرستی میں اپنا مشن قائم کیا ہے اور اسے چلا رہے ہیں۔( یہ تاریخی حقائق کے بالکل خلاف تھا۔کہا بیر، حیفا میں جماعت اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے قائم تھی۔اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح انہوں نے اس وقت بے انتہا تکالیف اٹھائی تھیں جب وہاں پر یہودی تسلط قائم کیا جا رہا تھا۔اور اس وقت حیفا میں صرف احمدی ہی نہیں رہ رہے تھے بلکہ دوسرے بہت سے مسلمان بھی رہ رہے تھے۔) بہر حال خوب جھوٹ بول کر مندوبین کو جماعت کے خلاف بھڑ کا یا گیا۔تمام تگ ودو کے بعد جماعت احمدیہ کے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔اور یہ تجویز کیا گیا کہ تمام عالم اسلام کو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے مطلع کیا جائے کیونکہ قادیانی مسلمانوں کی سیکیورٹی کے لیے بالخصوص مشرق اوسط جیسے حساس علاقہ میں ان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔کیونکہ قادیانی جہاد کو منسوخ سمجھتے ہیں اور ان کو