سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 90 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 90

90 حضور نے ارشاد فرمایا کہ مختلف مقامات پر کم از کم سولہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکول کھولنے چاہئیں جن کا خرچ مقامی جماعت کو برداشت کرنا چاہئے۔اسی طرح چار نئے میڈیکل سینٹر بھی کھلنے چاہئیں۔حضور نے اس وقت اس منصوبے کا نام پروجیکٹ لیپ فارورڈ (Project Leap Forward) رکھا۔حضرت خلیفة اصبح الثالث نے نائیجیریا کا نقشہ سامنے رکھ کر بعض مقامات کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ Tentative طور پر ان مقامات کو بھی زیر تجویز رکھا جائے۔حضور نے سات نائیجیرین احباب کی ایک کمیٹی قائم فرمائی جو اس مقصد کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کرے۔ممبران کمیٹی کا تعلق نائیجیریا کے مختلف مقامات سے تھا۔اس کمیٹی کے کنو نیز مکرم و محترم جسٹس عبدالرحیم بکری صاحب تھے، الحاج الیاس صاحب اس کمیٹی کے سیکریٹری تھے ،اس کے دیگر پانچ ممبران مکرم آر۔اے۔بساری صاحب (Busari) از اجیبو اوڈے، مکرم فنشو صاحب (H۔K۔A۔Funsho) از کانو، مکرم عبدالعزیز بیر و (Habiru) صاحب از کانو اور مکرم الحاج اے۔اے۔ابیولا صاحب (Abiola) از Abeokuta تھے۔حضور نے اس منصوبہ کے لئے یہ ہدف دیا کہ اگلے پانچ سے سات سال کے دوران لڑکیوں کے لئے چھ اور لڑکوں کے لئے دس نئے سکول کھولے جائیں اور چار نئے میڈ یکل سینٹر قائم کئے جائیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ہدایت فرمائی کہ یہ کمیٹی اپنی رپورٹ دو ماہ کے اندر مکمل کرے لیکن ہر دو ہفتے کے بعد اپنی کارگزاری کی رپورٹ حضور کی خدمت میں بھجواتی رہے اور ارشاد فرمایا کہ کمیٹی نے تعلیمی اور طبی اداروں کے مقامات کا تعین کر کے اس کی رپورٹ حضور کا دورہ مغربی افریقہ ختم ہونے سے قبل ہی حضور کی خدمت میں بھجوا دے۔اس کمیٹی کے سپر دسکیم کا تیار کر نا تھا حضور نے ارشاد فرمایا کہ جب یہ منصوبہ تیار ہو جائے تو امیر جماعت احمد یہ اس پر عملدرآمد کی عمومی نگرانی کریں گے اور پریذیڈنٹ جماعت اس کی براہ راست نگرانی کریں گے۔اس طرح منصوبہ بندی کا کام اور احباب کے سپر د تھا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا کام اور حضرات کے سپر دتھا۔(۱۷) عشاء کی نماز کے بعد حضور نے نائیجیریا کے ایک بزرگ اور مجد د حضرت عثمان فود یو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نائیجیریا میں اپنے وقت کے مجدد تھے۔عین اس وقت میں ہندوستان میں سید احمد شہید بھی مجدد تھے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک زمانے میں کئی مجدد ہو سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ حضرت عثمان فود یو کے متعلق کچھ کتب نائیجیریا سے مل گئی تھیں اور مزید کتب