سلسلہ احمدیہ — Page 85
85 الحمد لله آپ کا ملک عظیم ملک ہے۔اس کا عظیم مستقبل ہے۔آپ احمدیوں کا بھی عظیم مستقبل ہے۔آپ سے جو وعدے کئے گئے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے۔آپ انتہائی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔آئیے ہم الحمد لله رب العلمین کہیں، رب العلمین کہیں، الحمد للہ رب العلمین کہیں۔اور آئیے اس پر درود و سلام بھیجیں جس نے کہا انما انا بشر مثلکم۔آئیے ہم کہیں صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم۔ہمارے کندھوں پر عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔آیئے انسانوں کو محبت اور امن کے ساتھ اکٹھا کر دیں۔تمام انسان یکساں ہیں بھائی ہیں۔تمام انسان ہمارے خالق کے عاجز بندے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ انسان زندہ رہے۔“ خطاب کے بعد حضور کا تعارف محترمہ فاطمہ علی صاحبہ سے کرایا گیا۔یہ وہ مخلص خاتون تھیں جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے ایک خطیر رقم دے کر عمارت جماعت کو عطیہ کے طور پر پیش کی تھی حضور نے ان کے لئے دعا کی۔حضور نے نائیجیریا کے شہر اباد ان کے دورہ پر بھی جانا تھا مگر موسم کی وجہ سے اس بات کے امکانات پیدا ہورہے تھے کہ شاید حضور وہاں تشریف نہ لے جاسکیں۔اس خدشہ کی وجہ سے ابادان کے احمدیوں کا اضطراب بڑھ رہا تھا۔تقریب کے اختتام پر حضور نے اعلان فرمایا کہ ہم ابادان بھی جائیں گے۔وہاں پر ابادان کے چند احمدی بھی موجود تھے ، اس خوش خبری کو سن کر انہوں نے والہانہ انداز میں خوشی کا اظہار کیا۔تقریب کے بعد حضور نے بہت سے احباب سے مصافحہ اور معانقہ فرمایا۔(۱۲،۱۱،۱۰) ۱۳ را پریل ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نائیجیریا کے صدر عزت مآب یعقو بو گوون صاحب سے ان کی رہائش گاہ پر ملنے تشریف لے گئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، مشنری انچارج نائیجیر یا مکرم فضل الہی انوری صاحب لیگوس کی جماعت کے پریذیڈنٹ مکرم بکری صاحب، مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب اور اس سفر میں حضور کے پرائیویٹ سیکریٹری مکرم چوہدری محمد علی صاحب بھی اس ملاقات میں حضور کے ہمراہ تھے۔صدر مملکت نہایت ادب سے حضور سے ملے۔حضور نے فرمایا کہ آپ لوگ بہت نازک مرحلے سے گزرے ہیں۔آپ لوگوں نے جس تحمل اور یقین سے ان نازک حالات میں ملک کی خدمت کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔اب جب کہ جنگ