سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 82 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 82

82 لئے سفر شروع ہوا۔پھر جہاز کے کیپٹن نے اعلان کیا کہ جنیوا میں شدید برفباری ہو رہی ہے اور عنقریب موسم ٹھیک ہونے کا کوئی امکان نہیں اس لئے جہاز لندن جائے گا اور وہاں سے جنیوا آنے کا بندو بست کیا جائیگا۔باقی مسافر تو اس خبر سے بہت پریشان ہوئے حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بہتری مقصود ہوگی۔جہازلندن پہنچا۔وہاں پر حضور کی موجودگی کی خبر پا کر لندن میں جماعت کے مبلغ مکرم بشیر احمد رفیق صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ایک گھنٹے کے بعد ایک فلائٹ پر زیورک پہنچنے کا انتظام کیا گیا۔پہلے تو سوئٹزر لینڈ کی جماعت جنیوا میں حضور کے استقبال کے لئے منتظر تھی۔پروگرام میں تبدیلی کی خبر ملنے پر ان میں سے کچھ دوست جن میں مکرم مشتاق احمد باجوہ صاحب ، حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مکرم ا تالو کیوی صاحب ( جنہوں نے کچھ ہی عرصہ قبل اسپرانٹو زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا تھا) بھی شامل تھے ، استقبال کے لئے زیورک پہنچے۔یہاں پر کھانا کھانے کے بعد اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کی ادئیگی کے بعد حضور دیر تک احباب میں تشریف فرمار ہے۔(۳) نائیجیریا کا دورہ زیورک پہنچ کر پروگرام میں کچھ تبدیلی کی گئی اور حضور وہاں سے براہِ راست نائیجیر یا روانہ ہونے کی بجائے زیورک سے فرینکفورٹ تشریف لے گئے۔اور وہاں سے ۱۱ را پریل ۱۹۷۰ء کو لفت ہانزا کے جہاز پر نائیجیریا کے دارالحکومت لیگوس روانہ ہوئے۔جہاز برف پوش پہاڑوں سے گزرتا ہوا جنیوا اور زیورک کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا صحراء اعظم کے اوپر پہنچا۔حضور کو اپنے اہلِ قافلہ کا اتنا خیال رہتا تھا کہ جب جہاز صحراء اعظم کے اوپر سے گزر رہا تھا تو آپ اپنی سیٹ چھوڑ کر دوسرے احباب کے پاس آگئے اور ان سے مختلف باتیں کرنے لگے۔ساتھ کی سیٹوں پر بچے بیٹھے تھے ، آپ نے اپنے ساتھیوں سے دریافت فرمایا کہ ان سے بھی بے تکلفی ہوئی ہے کہ نہیں اور پھر جھک کر ایک ننھے منے بچے کو پیار فرمایا۔بالآخر ساڑھے چھ گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد جہاز لیگوس کے ایئر پورٹ پر اترا۔(۴) یہ پہلا موقع تھا کہ خلیفہ اسیح افریقہ کے کسی شہر میں تشریف لا رہے تھے۔اور یہ سعادت نائیجیریا کے شہر لیگوس کے حصے میں آئی تھی۔ار ا پریل ۱۹۷۰ء کو سہ پہر چار بج کر دس منٹ پر جہاز لیگوس کے