سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 71 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 71

71 کتب اور تقاریر میں بیان فرمایا ہے۔اسے اکٹھا کر کے یکجا طور پر کتابی شکل میں ادارۃ المصنفین کی طرف سے تفسیر سورۃ فاتحہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔یہ مضمون جو کتابی شکل میں اکٹھا ہوا ہے اسے میں نے اس وقت تک تین چار دفعہ پڑھ لیا ہے۔جن دوسرے صاحب علم اور صاحب فراست اور صاحب محبتا للاسلام نے اسے پڑھا ہے ان پر بھی اسی طرح اکٹھی شکل میں خاص اثر ہوا ہے۔اور یہ سورۃ فاتحہ کی بڑی ہی عجیب تفسیر ہے۔اس تفسیر کو پڑھ کر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے اس چیلنج کا صحیح پتا چلتا ہے جو آپ نے پادریوں کو دیا۔جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک بھی تو ریت ایک الہامی کتاب ہے پھر اس الہامی کتاب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کی کیا ضرورت تھی۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم کی تو بات چھوڑو۔سورۃ فاتحہ میں جو روحانی اور اخلاقی علوم بیان ہوئے ہیں اور اسرار بتائے گئے ہیں اگر تم اس سورۃ کے اسرار روحانی کے مقابلے میں اپنی ساری الہامی کتب سے جو ۷۲ کے قریب ہیں۔۔۔۔۔ایسے ہی ان سے ملتے جلتے مضامین نکال کر ہمیں دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے۔لیکن عیسائیت کے عمل نے دنیا پر یہ ظاہر کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے مقابلے میں ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔میں جب یورپ کے دورے پر گیا تو میں نے وہاں کے پادریوں کے سامنے اس چیلنج کو دہرایا۔جب میں اس چیلنج کو دہرا ہی رہا تھا تو دراصل اس وقت مجھے ایک خیال آیا اور میں نے سوچا کہ اگر یہ پادری کہیں کہ اچھا ہم مقابلہ کرتے ہیں کہاں ہے سورۃ فاتحہ کی وہ تفسیر تو میں کہوں گا کہ مختلف کتابوں میں وہ بکھری ہوئی ہے۔ذراسی بات پر مجھے شرمندہ ہونا پڑے گا۔پس اس وقت میں نے ارادہ کیا کہ اسے اکٹھا کر کے ضرور شائع کر دینا ہے۔اور یہ تو اس چیلنج کے لحاظ سے پہلی جلد ہے اسکے بعد اب سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی اور جلد میں آئیں گی۔خلفائے احمدیت نے سورۃ فاتحہ کی جو تفسیر کی ہے وہ اپنی جگہ بڑی حسین ہے۔اللہ تعالیٰ کی عطا ہے انسان کا اپنا تو کچھ نہیں اور یہ بھی سورۃ فاتحہ کے مضامین کی شاید دو یا تین جلدیں بن