سلسلہ احمدیہ — Page 72
72 جائیں۔لیکن اب بھی ہم اس مقام پر آگئے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ کہاں ہے وہ تفسیر جس کا چیلنج دیا گیا ہے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیان فرمودہ یہ تفسیری مجموعہ اس کے ہاتھ میں دے دیں گے۔اور اسے کہیں گے کہ یہ ہیں ان سات آیات کے حسین بیانات جو اسرار روحانی اور دقائق اخلاقی پر مشتمل ہیں۔۔۔۔۔ابھی میں نے اسلام کے اقتصادی نظام کے اصول اور فلسفہ پر جو خطبات دیئے تھے۔جس وقت میں یہ خطبات دے چکا تو مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ احمدی تو مذہب سے دلچپسی رکھتے ہیں اور ان خطبات میں جو مختلف مذہبی پہلو بیان ہوئے ہیں جنکی بنیاد پر آگے اقتصادی اصول بیان کئے گئے ہیں وہ بڑے شوق سے پڑھیں گے اور بڑی لذت محسوس کریں گے لیکن دوسرے لوگ خصوصاً غیر مسلم جو ہیں ان کو تو مذہب یا اسلام یا قرآن سے دلچسپی نہیں وہ شاید بور یعنی اکتا جائیں اسلئے ان سارے خطبات کا خلاصہ بیان کر دینا چاہئے جس میں صرف اصول بتا دیئے جائیں اس کی حکمتیں اور وہ روحانی بنیاد جن کے اوپر ان کو قائم کیا گیا ہے اس کو چھوڑ دیا جائے اور جو تعلیم ہے اور جو اس کا فلسفہ ہے وہ بیان کر دیا جائے اور یہ دراصل خلاصہ ہو گا ان خطبات کا۔چنانچہ میں اس وقت بہت دعا کر رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ جو کچھ تم نے ان چودہ خطبات میں بیان کیا ہے یہ سارا مضمون سورۃ فاتحہ میں پایا جاتا ہے۔تم سورۃ فاتحہ کی اقتصادی تفسیر بیان کر دینا تو ان خطبات کا خلاصہ آ جائے گا۔چنانچہ مجھے بڑا لطف آیا۔لیکن ابھی تک مجھے موقع نہیں ملا کچھ دوسرے کام کچھ دوسرے نئے مضامین ضرورت جماعت کے لئے سامنے آجاتے ہیں۔اس واسطے انسان سلسلہ وار مضمون بیان نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر چھپ چکی ہے۔بڑی لطیف تفسیر ہے۔اسے پڑھ کر بڑا مزا آتا ہے۔اور جتنی دفعہ پڑھیں نئے سے نئے مضامین سوجھتے رہتے ہیں۔میرے تو بہت سے خطبات کی بنیاد وہی Ideas یعنی نظریات ہوتے ہیں جو وہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ان میں سے کسی نہ کسی پر میں اپنے مضمون کی بنیاد رکھ دیا کرتا ہوں۔یعنی وہاں سے ایک خیال لے لیا اور اسے پھیلایا اور وہ خطبہ تیار ہو جاتا ہے۔یہ صیح