سلسلہ احمدیہ — Page 682
682 خدام الاحمدیہ کا ایک اجتماع بھی منعقد کیا گیا اور ایک ہال میں علیحدہ تبلیغی جلسہ بھی منعقد ہوا۔اس تبلیغی جلسہ میں ہی دو ہزار کے قریب احباب نے شرکت کی۔(۱) انڈونیشیا میں بھی مخالفین اخلاق سے گری ہوئی حرکات کے ذریعہ جماعت کی پر امن سرگرمیوں کو روکنے کی کوششیں کرتے رہتے تھے۔چنانچہ جب ۱۹۷۸ء میں جماعت کی طرف سے ایک تربیتی کلاس کا اہتمام کیا گیا۔یہ کلاس ایک گاؤں گسلا دا (Gislada) میں منعقد کی جا رہی تھی۔یہ چھوٹا سا گاؤں سارا احمدی تھا۔مخالفین کو جب اس کی خبر ہوئی تو بعض غیر احمدیوں نے تو تعاون کیا اور کچھ مخالفین نے بائیکاٹ کی مہم چلائی اور جس سڑک سے احمدیوں نے آنا تھا اس پر کیلیں اور دوسری تکلیف دہ اشیاء ڈال دیں۔انڈونیشیا کی جماعت اشاعت لٹریچر سے بھی تبلیغ کا کام وسیع پیمانے پر کر رہی تھی۔چنانچہ مجلس عاملہ خدام الاحمدیہ کے تیار کردہ منصوبہ کے تحت ۱۹۷۸ء میں کتاب ” احمدیت کیا ہے اور اس کا ماننا کیوں ضروری ہے اور انڈونیشیا کی جماعت کے جریدے سینار اسلام کو وسیع پیمانے پر شائع کیا گیا۔۱۹۷۸ء میں سراویلا اور مشرقی جاوا میں گریسک (Gresik) کے مقام پر جماعتیں قائم ہوئیں اور اسی سال جزیره ما دوره ( Madura) میں نیا مشن کھولا گیا۔۱۹۷۹ء میں ایک مخلص احمدی خاتون مکرمہ ایبود رمہ صاحبہ نے بانڈ ونگ شہر میں ایک قطعہ زمین اس غرض کے لئے جماعت کو ہبہ کیا کہ اس پر ایک مسجد تعمیر کی جائے۔اور پھر اپنے خرچ پر یہ سجد تعمیر بھی کرائی۔اور دفاتر کی تعمیر کے لئے زمین کا عطیہ بھی دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۷۸ء کے جلسہ سالانہ میں اعلان فرمایا کہ اس سال انڈونیشیا میں تین مساجد تعمیر ہوئی ہیں اور اسی سال انڈونیشیا میں ایک مشن ہاؤس کی تعمیر بھی ہوئی۔اسی طرح ۱۹۷۹ ء میں جماعت نے شہر کو نیگان Kuningan میں کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا گیا جس سے ہزاروں افراد نے فائدہ اُٹھایا۔(۳) انڈونیشیا میں جماعت احمدیہ کی طرف سے با قاعدگی سے مختلف مقامات پر سیرت النبی کے جلسے منعقد کئے جاتے۔ان تقاریب میں غیر از جماعت احباب بھی شرکت کرتے۔(۴) ۱۹۸۱ء میں مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر نے انڈونیشیا کا دورہ فرمایا۔