سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 675 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 675

675 فولڈر تیار کر کے ایک دن میں ہی ۷۵ ہزار کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔تقسیم کرنے والوں کو بعض مقامات پر بدسلوکی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن یہ کام جاری رکھا گیا۔اسی طرح ماریشس میں پروجیکٹر کے ذریعہ سلائیڈ ز دکھا کر احمدیت کی تبلیغ کی جاتی تھی۔ماریشس میں تقریباً ہر گاؤں میں حکومت نے سوشل سینٹر بنائے ہیں۔ان میں بھی جماعت احمدیہ کی عالمگیر سرگرمیوں کے بارے میں سلائیڈ ز دکھائی گئیں۔حضرت خلیفة اصسیح الثالث کے دورِ خلافت میں زائچلی (Gently)، کاتغ بورن Quartreborn)، پورٹ لائیں (Port Louis) اور تریولے(Trivlet) کے مقامات پر مساجد تعمیر ہوئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دورِ خلافت میں ہی روز ہل کے قریب تریفلے (Trefle) کے مقام پر ایک ایکڑ زمین خریدی جہاں پر جلسہ سالانہ کا انعقاد ہوتا ہے۔(۳) (۱) الفضل ۱ جولائی ۱۹۷۱ ص ۵ (۲) الفضل ۱۹ ستمبر ۱۹۷۱ء (۳) تحریری روایت مکرم صدیق احمد منور صاحب سابق مربی انچارج ماریشس۔کوموروز (Comoros) میں جماعت کا قیام اس ملک کے باشندوں میں سب سے پہلے احمدی ہونے کا اعزاز مکرم سعید عمر درویش صاحب کو حاصل ہوا۔آپ پیشہ کے لحاظ سے گلوکار اور موسیقار تھے۔وہ اسی سلسلہ میں ماریشس آئے ہوئے تھے۔ایک دن وہ روز بل میں اپنے ہوٹل کا راستہ بھول گئے۔اور ایک احمدی ٹیلر ماسٹر صاحب کی دوکان پر آگئے۔وہ ان سے بہت اخلاق سے ملے اور انہیں مشن ہاؤس لے آئے۔یہاں ان کی ملاقات ماریشس میں مبلغ سلسلہ مکرم صدیق احمد منور صاحب سے ہوئی۔یوں ان صاحب کو احمدیت سے تعارف حاصل ہوا۔جو بعد میں ان کی بیعت کا باعث بنا۔پھرا پریل ۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اجازت سے مکرم صدیق منور صاحب اور ماریشس کے ایک مخلص احمدی دوست مکرم یوسف اچھا صاحب ماریشس سے کوموروز کے دارالحکومت مورونی(Moroni) پہنچے اور یہاں پر مختلف لوگوں سے جن میں حکومتی عہد یدار بھی شامل تھے رابطہ کیا۔آپ ملک کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے لئے ان کے دفتر میں انتظار کر رہے تھے کہ دو پولیس