سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 671 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 671

671 ان سے علیحدہ کر دیا گیا۔احمدیوں نے تہیہ کیا کہ وہ اپنی مسجد تعمیر کریں گے۔چنانچہ کیٹو بو (Kitobo) اور کینوگو (Kitogho) کے قصبوں میں دو چھوٹی اور کچی مساجد تعمیر کی گئیں۔لیکن مخالفین جب وہاں سے گزرتے تو نماز پڑھنے والے احمدیوں پر پتھر پھینکتے۔خلافت ثالثہ کے دوران اس علاقہ کے پہلے احمدی جمعه علی صاحب نے اپنے صاحبزادے مکرم عبد اللہ حسین جمعہ صاحب کو وقف کر دیا اور انہوں نے ربوہ آکر دینی تعلیم حاصل کی۔وہ اب کینیا میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔خلافت ثالثہ کے دوران کیتو بو (Kitobo) اور ایلڈورو (Eldoro) کے مقامات پر پختہ مساجد تعمیر کی گئیں۔ابتدا میں اس علاقہ میں مکرم مولا نا عیسی صاحب اور مکرم بشیر اختر صاحب نے یہاں کے ریجنل مشنری کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔خلافت ثالثہ کے دوران تنزانیہ کے بہت سے دیہات میں بھی چھوٹی چھوٹی مساجد تعمیر ہوئیں۔۱۹۷۴ء میں Muheza اور Machame کے مقام پر ، ۱۹۷۵ء میں Iringa کے مقام پر، ۱۹۷۷ ء میں Mtama کے مقام پر، ۱۹۷۸ء میں Namtumbo کے مقام پر ،۱۹۷۹ء میں Mahuta اور Newala کے مقامات پر ۱۹۸۰ ء میں Ndutumi اور Chikole کے مقامات پر اور ۱۹۸۱ء میں Mpwahia اور Songea کے مقامات پر مساجد تعمیر کی گئیں۔(۲) (۱) خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء (۲) تحریری روایت مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب روانڈا روانڈا مشرقی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔آزادی سے پہلے یہ ملک تیجیم کے ماتحت تھا۔اور پھر ۱۹۶۲ ء تک یہ ملک برونڈی کے ساتھ رہا اور پھر علیحدہ ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔۱۹۷۹ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روانڈا میں جماعت قائم ہوگئی ہے۔(۱) (۱) خطاب حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۷ دسمبر ۱۹۷۹ء