سلسلہ احمدیہ — Page 667
667 چوہدری محمد شریف صاحب اور آئیوری کوسٹ سے مکرم قریشی محمد افضل صاحب نے اس میں شرکت کی۔اس کے پہلے اجلاس میں منروویا کی دونوں مساجد کے ائمہ اور پریذیڈنٹ مسلم کانگرس اور پریذیڈنٹ مسلم کمیونٹی لائبیریا نے بھی شرکت کی۔ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں اس کانفرنس کی خبریں شائع اور نشر ہو کر تبلیغ کا ذریعہ بنتی رہیں۔لائبیریا میں ابھی تک جلسہ سالانہ کی روایت کا آغاز نہیں ہوا تھا۔اس ضمن میں ایک کوشش ۱۹۶۷ء میں ہوئی۔یہ ایک روزہ تقریب پیگ وے کے مقام پر منعقد کی گئی۔نومبر ۱۹۶۹ء میں مکرم امین اللہ سالک صاحب نے مکرم مبارک احمد ساقی صاحب سے امیر و مشنری انچارج لائبیریا کا چارج لیا۔۱۹۷۰ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے لائبیریا کا دورہ فرمایا جس کا ذکر علیحدہ کیا گیا ہے۔جنوری ۱۹۷۴ء میں لائبیریا میں جماعت احمدیہ کے پہلے سکول کا آغاز کیا گیا۔یہ سکول سانو یا (Sanoyea) کے قصبہ میں بنایا گیا تھا۔اور حکومت نے یہاں پر جماعت کو سوا یکٹر زمین الاٹ کی تھی۔یہ سکول مجلس نصرت جہاں کے تحت کھولا گیا تھا اور مکرم سردار رفیق احمد صاحب اس کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے تھے۔پھر حکومت کے دوسکول اس علاقہ میں کھولے گئے۔وہاں کی انتظامیہ کے بعض افسران نے کہا کہ ہم نے یہ سکول آپ کے مقابلہ کے لئے بنائے ہیں ،اس پر جماعت کے سکول کے پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہم آپ سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔اس سکول میں طلباء کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی خدمت میں تجویز پیش کی گئی کہ اس سکول کو بند کر دیا جائے لیکن حضور نے اسے منظور نہیں فرمایا (۱)۔۱۹۷۴ء میں مکرم امین اللہ سالک صاحب کی جگہ مکرم رشید الدین صاحب کو لائبیریا کی جماعت کا امیر ومشنری انچارج مقرر کیا گیا۔اور ۱۹۷۶ ء میں جب مکرم رشید الدین صاحب مرکز واپس آئے تو مکرم عطاء الکریم شاہد صاحب کو یہاں کا امیر و مبلغ انچارج مقرر کیا گیا۔Sanoyea میں سکول کے بننے کے بعد وہاں کے گردو پیش میں بیعتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۱۹۷۹ء میں لائبیریا میں افریقی اتحاد کی تنظیم کا اجلاس ہوا۔اس موقع پر جماعت احمدیہ نے شرکاء کو جماعت کا لٹریچر پیش کرنے کے لئے خاص پروگرام مرتب کیا اور مرکز کی ہدایت کے مطابق غانا سے مکرم عبد الوہاب آدم صاحب بھی لائبیریا تشریف لے گئے۔اس موقع پر سینکڑوں شرکاء تک احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے لندن میں واقعہ صلیب کے موضوع پر ایک