سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 649 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 649

649 ہے۔اسی کے سارے کام ہیں۔مشرقی افریقہ میں ان دنوں مقامی افریقنوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توجہ پیدا ہو گئی ہے۔۔۔۔بعض جگہ تو گاؤں کے گاؤں احمدی ہوئے ہیں۔تنزانیہ میں زیادہ ہیں۔یوگینڈا میں اس سے کم اور کینیا میں اس سے کم لیکن کینیا میں اب حالات ایسے پیدا ہورہے ہیں کہ ساحل سمندر پر غالباً مقامی لوگوں کی جماعتیں پیدا ہو جائیں گی۔آپ دعائیں کرتے رہیں۔“ خلافت ثالثہ میں دیگر طریقوں کے ساتھ زراعتی میلوں میں جماعت کے لٹریچر کے سٹال لگانے کے طریق کو بھی تبلیغ کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا۔یہ میلے نیروبی ،کسومو، ایلڈوریٹ اور ممباسہ میں منعقد ہورہے تھے۔افریقہ کے باقی ممالک کی طرح کینیا بھی عیسائی منادوں کی سرگرمیوں سے اپنا حصہ لے رہا تھا جو اپنے اپنے طریق سے عیسائیت کی تبلیغ کے لئے کاوشیں کر رہے تھے۔جولائی ۱۹۶۸ء میں ایک پادری اورل را برٹس (Oral Roberts) کینیا آئے اور معجزہ نمائی کا دعویٰ پیش کیا۔ذرائع ابلاغ پر اس کا خوب چرچا ہوا۔جماعت کے مبلغ مکرم عبد الکریم شر ما صاحب نے انہیں دعا کے ذریعہ نشان نمائی کی دعوت دی۔لیکن اس کے جواب میں پادری صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔نیشن (Nation) جیسے قومی جریدے نے بھی پادری صاحب پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس دعوت کو قبول کریں لیکن انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم اس دعوت کو قبول نہیں کر سکتے۔لامو(Lamu) کینیا کے ایک ساحلی مقام پر واقعہ ہے۔کینیا میں سب سے پہلے اسلام یہاں پر پہنچا تھا۔۱۹۶۸ء میں مکرم بشیر احمد اختر صاحب مشنری انچارج مکرم عبدالکریم شر ما صاحب کی ہدایت پر تبلیغ کے لئے گئے۔وہاں پر موجود عرب شیوخ کی طرف سے آپ کی شدید مخالفت کی گئی اور سرکاری حکام نے آپ کو وہاں سے جانے کے لئے کہا۔آپ تو وہاں سے آگئے لیکن اس مقام پر احمدیت کا بیج بو دیا گیا۔اور سب سے پہلے بیعت کرنے والے پولیس کے ایک اہلکار تھے۔کینیا میں تبلیغی مساعی صرف شہروں تک محدود نہ رہی بلکہ دیہات میں بھی جماعت احمدیہ کی تبلیغی کاوشیں رنگ لانے لگیں۔اور خلافت ثالثہ کے دوران مختلف دیہات میں غریبانہ رنگ میں مساجد کی تعمیر بھی ہوئی۔چنانچہ ۱۹۷۰ ء میں اسمبو (Asembo) اور کیسا (Kisa) کے مقام پر مساجد تعمیر