سلسلہ احمدیہ — Page 650
650 ہوئیں۔۱۹۷۱ ء میں ٹاویٹا (Taveta) اور امبالے (Mbale) ( یہ والا امبالے کینیا کے مغربی صوبہ میں ہے۔ایک اور امبالے یوگینڈا میں واقع ہے ) کے مقامات پر مساجد تعمیر ہوئیں۔۱۹۷۵ء میں مشرقی یوگینڈا میں شینگا (Shibinga) کیتو بو (Kitobo) چیومبو (Chibombo) اور نزوئیا(Nzoia) کے مقامات پر اور West Ugenya کے مقامات پر مساجد قائم ہوئیں۔اس کے علاوہ امبالے (MumiasMutoma (Male اور مازو مالوے Mazumalume کے مقامات پر نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔مختلف اوقات میں کینیا کے امراء جماعت کینیا کے مختلف علاقوں میں تبلیغی اور تربیتی دورے کرتے اور ان مواقع پر خلافت ثالثہ کے دوران بھی کینیا میں جماعتی لٹریچر شائع کیا گیا اور اس کے ذریعہ اس ملک میں تبلیغ کی گئی۔سواحیلی Luo اور Lua زبانوں میں ہزاروں کی تعداد میں پمفلٹ تقسیم کئے جاتے۔مختلف مقامات پر لیکچر ہوتے جن میں غیر از جماعت احباب بھی خاطر خواہ تعداد میں شرکت کرتے۔(۱) اللہ تعالیٰ نے مکرم جمیل الرحمن رفیق صاحب امیر ومشنری انچارج کینیا کو سواحیلی زبان پر ملکہ عطا فرمایا تھا۔چنانچہ انہوں نے اس زبان میں بہت سی کتب کا ترجمہ کیا اور تبلیغی نقطہ نگاہ سے بہت سے کتابچوں کی تصنیف کی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف’ایک غلطی کا ازالہ ، حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیف ”اسلام اور دیگر مذاہب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ”اسلامی اصول کی فلاسفی منتخب احادیث منتخب قرآنی آیات، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منتخب تحریروں، احادیث کے مجموعہ حدیقۃ الصالحین اور الوصیت کا سواحیلی میں ترجمہ کیا۔یہ تراجم خلافت ثالثہ اور رابعہ میں مختلف اوقات میں شائع ہوئے۔۱۹۷۰ء کی دہائی کے آغاز پر ممباسہ میں ماریشس سے تعلق رکھنے والے مبلغ سلسلہ مکرم احمد شمشیر سو کیہ صاحب متعین تھے اور بڑی تند ہی سے کام کر رہے تھے۔(۲)