سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 648 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 648

648 کی۔۱۹۸۰ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے دوسری مرتبہ کینیڈا کا دورہ فرمایا۔اسی سال مکرم منیر الدین شمس صاحب نے مکرم منصور احمد بشیر صاحب سے چارج لے کر کینیڈا کے مشنری کے طور پر کام شروع کیا۔مکرم منیر الدین شمس صاحب نے کینیڈا آنے کے بعد ملک میں ٹیلی وژن پر جماعت کے متعلق پروگرام شروع کئے۔۱۹۸۲ء میں مانٹریال میں بھی ایک عمارت لے کر اسے مشن ہاؤس بنایا گیا۔كينيا یوں تو ایک عرصہ سے مشرقی افریقہ میں جماعتیں قائم تھیں۔لیکن ان میں سے اکثر بر صغیر سے گئے ہوئے احمدیوں کی تھی۔اور مقامی آبادی کے لوگ بہت کم تھے۔جب یہ ملک آزاد ہوئے تو ایشیائی باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے یہاں سے نقل مکانی شروع کر دی۔اور یہاں کی جماعتوں میں ضعف پیدا ہونا شروع ہوا۔اور یہ امر خاص طور پر کینیا میں قابل تشویش تھا۔اس صورت حال کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۶۹ء کے جلسہ سالا نہ میں فرمایا :۔مشرقی افریقہ میں پاکستانی ہندوستانی لوگ۔۔۔بہت کثرت سے آباد تھے اور انہی میں سے بیعتیں ہوئیں اور انہیں میں سے جماعتیں بنیں۔اور مشرقی افریقہ مثلاً کینیا کے علاقے میں تو شاید ہی کوئی مقامی باشندہ احمدی ہوا ہو۔لیکن بڑی مضبوط جماعتیں تھیں بڑے چندے دیتی تھیں۔بڑی قربانی کرنے والی تھیں۔لوگوں کے سامنے مشرقی افریقہ کے نام سے تو مشرقی افریقہ کی جماعت متعارف تھی لیکن ان میں کوئی مقامی آدمی تھا ہی نہیں یا نہ ہونے کے برابر تھا۔اب جب وہاں سے لوگ بھاگنے شروع ہوئے حکومت بدل گئی۔پس جماعت ختم ہونی شروع ہو گئی۔چنانچہ دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ ایک ملک جس میں اتنی کثرت سے احمدی پائے جاتے تھے اور ان کا اتنا چندہ ہوتا تھا۔یکدم جماعت کے سامنے یہ چیز آجائے گی کہ وہاں نہ ہمارے آدمی رہے نہ ان کا چندہ رہا۔جماعت ہی ختم ہو گئی۔چنانچہ میرا آپ کے سامنے اس بات کو بیان کرنے کا یہ پہلا موقع ہے۔بہت دعائیں کریں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے دعائیں کرنے کی توفیق دی۔اصل میں تو وہی ہے جو دعاؤں کو بھی سنتا ہے اور بغیر دعاؤں کے بھی ہمارے کام کرتا ہے۔ہمارا کیا کام کرتا