سلسلہ احمدیہ — Page 622
622 66 جائے گا تمہیں۔خدا کرے آپ اس حقیقت کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔“ ابتداء میں احمدیہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے جن عملی خدمات سے آغا ز کیا ان میں اپنی تنظیم سازی کے علاوہ طلباء کے لئے فری کو چنگ کلاسز کا اجراء بھی تھا۔ان کلاسز میں طلباء ہی دوسرے طلباء کو پڑھاتے اور ان کی تعلیم میں ان کی مدد کرتے۔ان کلاسز کا اجراء ربوہ میں کیا گیا۔اور ربوہ سے باہر سے بھی طلباء آکر ان سے استفادہ کرتے۔یہ کلاسز ایف ایس سی کے طلباء کے لئے لگائی جا رہی تھیں۔اور جولائی ۱۹۸۰ ء تک ایسی تین کلاسز لگائی جا چکی تھیں۔جب تیسری کلاس کا افتتاح ہوا تو اس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے سرپرست حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمایا کہ احمدیہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد احمدی طلباء کے کردار کی تعمیر اور اسلامی اخلاق حسنہ کا قیام ہے۔تاکہ ان میں خدمت قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا جائے جو کہ جدید تہذیب کے کسی بھی سطح اخلاق سے بہت اعلیٰ اور بلند ہے۔اس موقع پر محترم صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اس طرح کی کلاسز کا اجراءر بوہ سے باہر دوسرے شہروں میں بھی کیا جائے۔(۱) اس کے علاوہ اس ایسوسی ایشن کی سرگرمیاں زیادہ تر آپس کے تعلقات بڑھانے اور نئے طلباء کی راہنمائی تک محدود تھیں۔جب ۱۹۸۱ء میں اس ایسوسی ایشن کا دوسرا کنونشن ہوا تو اس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا:۔پہلی بات تو اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔جب سے تعلیمی منصوبہ جاری ہوا ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ جو علم میں بات آئی ہے اس میں پہلے سے زیادہ برکتیں نظر آتی ہیں کہ اس وقت ہمارے ستائیس طلباء اور طالبات یہ جو ہم نے تین تمغے ہم نے فرسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ کے لئے ہم نے رکھے ہیں ان کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔اور یہ صرف پاکستان کی تصویر ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ اگر انسان خدا کا شکر گزار بندہ بنے تو برکتیں ہر آن بڑھتی چلی جاتی ہیں لَبِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم:۸) جب میں نے یہ منصوبہ جاری کیا تو ذہن میں صرف یہ نہیں تھا کہ اچھے طالب علم پیدا ہوں۔ذہن میں یہ تھا کہ اچھے ایسے طالب علم پیدا ہوں جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اس رنگ میں خدمت کرنے والے ہوں جس رنگ میں کہ خدا ہم سے چاہتا ہے کہ ہم خدمت