سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 621 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 621

621 احمدی بچہ ہمارے ٹی آئی کالج میں داخل ہوا۔جب کالج لا ہور میں تھا۔اس کے والد کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا تھا میرے اس کے ساتھ تعلقات تھے اور بڑے پیار سے میں نے داخل کیا، اسے رکھا۔مہینے دو مہینے کے بعد اس کا والد آیا اور کہنے لگا میرے کچھ رشتہ دار غیر مبائع ہیں وہ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ تمہارا بچہ اتنا ذہین اور یہ تو آئی سی ایس اور Superior Services میں جانے والا دماغ اور یہ کیا ظلم کیا تم نے اپنے خاندان پر اور ہمارے پر اور اس بچے پر کہ اسے تعلیم الاسلام کا لج میں داخل کر دیا اور جب وہ انٹرویو میں جہاں بھی جائے گا کہے گا میں تعلیم الاسلام کالج کا پڑھا ہوا ہوں۔اس کو نمبر نہیں دیں گے فیل کر دیں گے۔اس کی مائیگریشن کراؤ گورنمنٹ کالج لاہور میں۔میں نے اسے آرام سے سمجھایا۔۔۔دیکھو خدا تعالیٰ کو جماعت احمدیہ کے لئے بڑے غیرت ہے۔تو یہ اس کو ناراض کرنے والی بات نہ کرو۔اور آرام سے سمجھایا، میرے ساتھ تعلقات بھی تھے۔وہ چلا گیا۔پندرہ دن بعد پھر آ گیا پھر وہ اس کے انہی غیر مبائع دوستوں نے کہا کہ یہ تم نے کیا حرکت کی ہے۔پھر میں نے سمجھایا پھر وہ چلا گیا۔پھر دس پندرہ دن کے بعد آیا اور اس وقت اس کی حالت ایسی تھی کہ کہ میں سمجھا کہ اگر میں نے دستخط نہ کئے تو اس کو ابتلاء آ جائے گا۔میں نے کہا ادھر لاؤ فارم۔فارم اس کے ہاتھ میں تھا پر کیا ہوا۔میں دستخط تو کر دیتا ہوں لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا تا ہوں کہ یہ لڑکا ایف اے پاس نہیں کرے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے لئے بڑی غیرت ہے۔خیر میں نے دستخط کئے وہ گیا۔اس کے اتنے نمبر تھے گورنمنٹ کالج والوں نے اسی وقت اس کو داخل کر لیا۔پانچ سال کے بعد ایک دن ڈاک میں میرے نام خط۔اور شروع یہاں سے ہوا کہ شاید آپ کو یاد نہ رہا ہو میں اپنا تعارف کروادوں آپ سے۔میں وہ نوجوان ہوں جس کے فارم پر دستخط ہوئے آپ نے کہا تھا یہ لڑکا ایف اے نہیں کر سکے گا۔انٹر میڈیٹ نہیں کر سکے گا۔میں آج تک انٹر میڈیٹ پاس نہیں کر سکا۔پھر وہ کوئی تجارت 66 میں گیا۔اس کے والد بھی بیچارے فوت ہو گئے۔یہ پرانی بات ہے ۵۳ ء سے پہلے کی۔“ پھر آخر میں حضور نے فرمایا: وو ” اس واسطے وہ ایک در ہے بس اور کسی جگہ جانا ہی نہیں چاہئے۔اس در کو کھٹکھٹا ئیں مل