سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 54 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 54

54 کیا تو ایک بار پھر فضا نعروں سے گونج اٹھی۔اس وقت احباب پر ایک وارفتگی کا عالم طاری تھا۔بعض احباب بلند آواز سے دعائیں پڑھ رہے تھے اور بعض نوجوان بچوں کی طرح بلک بلک کر رور ہے تھے۔جب تک گاڑی پلیٹ فارم پر گزرتی رہی ، حضرت خلیفہ اسیح الثالث دروازے پر کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر ا حباب کے سلام کا جواب دیتے رہے۔(۳) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مرکز سے اپنی عدم موجودگی میں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو امیر مقامی اور مکرم مولانا ابو العطاء صاحب کو مسجد مبارک ربوہ میں امام الصلوۃ مقرر فرمایا تھا۔اور انتہائی ضروری اور فوری معاملات پر غور کرنے کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر فرمائی تھی جس میں ناظر اعلیٰ حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب، قائم مقام وکیل اعلیٰ مکرم میر داؤ داحمد صاحب ( بطور کنویز )، امیر مقامی و ناظر امور عامه حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، صدر مجلس خدام الاحمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، قائم مقام صدر انصار اللہ مکرم مولانا ابو العطاء صاحب شامل تھے۔(۴) کراچی تک راستے میں بہت سے احباب چھوٹے بڑے اسٹیشنوں پر حضور کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔حضور نے از راہ شفقت ان سے ملاقات فرمائی اور یہ سلسلہ رات کو بھی جاری رہا۔حضور نے ان احباب کو مختلف نصائح فرمائیں اور خصوصیت سے قرآن کریم کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور بروز جمعہ ے جولائی کی دو پہر کو کراچی پہنچے۔آپ نے جمعہ کی نماز احمدیہ ہال میگزین لین میں پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں اپنے دورہ یورپ کی غرض و غایت کو واضح فرمایا۔نماز جمعہ کے بعد آپ نے مجلس انصاراللہ کراچی کے اجتماع کا افتتاح فرمایا اور اپنی تقریر میں قرآنِ کریم کے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے پر زور دیا۔(۵) یورپ کے اس دورے میں حضور کا پہلا قیام فرینکفورٹ ( جرمنی ) میں تھا۔آپ ۸ جولائی ۱۹۶۷ء کو کراچی سے پی آئی اے کے بوئینگ جہاز پر روانہ ہوئے۔جہاز کچھ دیر کے لئے تہران رکا۔وہاں پر جماعت کے چند احباب نے حضور سے شرف مصافحہ حاصل کیا۔پھر جہاز ماسکو سے ہوتا ہوا سہ پہر تین بج کر پچاس منٹ پر فرینکفورٹ پہنچا۔(۲) فرینکفورٹ میں جماعت کا مشن ایک عرصہ سے کام کر رہا تھا۔۱۹۵۹ء میں یہاں پر جماعت