سلسلہ احمدیہ — Page 607
607 گند پڑھا تھا۔اپنے مضمون کے بعد میں نے ان کی ریلیز پڑھ کر سنوا دی اور پھر اس کا جواب خود میں نے پڑھ کر سنایا۔ایک تو ان کا خط تھا اور ایک ان کی ریلیز تھی۔وہ دو علیحدہ علیحدہ کاغذوں پر تھے اور یہی دستور ہے۔خط میں لکھا تھا کہ ہم Open Dialogue کرنا چاہتے ہیں یعنی کھلی بات چیت ہو۔ہر ایک کو پتہ ہو کہ کیا تبادلہ خیال ہوا ہے۔اور اسی خط کے اندر کے حصے میں تھا کہ unpublicised dialogue ہونی چاہئے یعنی ایسا تبادلہ خیال جس کی اشاعت نہ ہو۔open اور unpublicised تو ویسے ہی متضاد چیزیں ہو گئیں۔میں نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ یہ تو ساری دنیا کے ساتھ تعلق رکھنے والا معاملہ ہے اس کی اشاعت ہونی چاہئے اور صرف انگلستان میں ہی کیوں؟ میں نے دنیا کے مختلف حصوں کے نام لے کر کہا کہ ہم ہر جگہ تبادلہ خیالات کرنے کو تیار ہیں اور صرف انگلستان کی کونسل آف چرچز سے ہی کیوں ، ہم کیتھولکس سے بھی تبادلہ خیال کرنے کو تیار ہیں۔دنیا کو پتہ لگنا چاہئے کہ وہ عقائد جو غلط طور پر حضرت مسیح کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور وہ واقعات جو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔میں نے اس کا وہاں اعلان کیا اور یہ اخباروں میں بھی آگیا اور پھر انہی صاحب کو جن کے دستخط سے کونسل آف چرچز کی طرف سے دعوت نامہ ملا تھا وہاں کے مشنری انچارج عزیز بشیر رفیق صاحب کی طرف سے خط گیا کہ ہمارے امام نے آپ کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے اور وہ اس قسم کی بحث یا تبادلہ خیال کا انتظام کریں گے لیکن بڑا لمبا عرصہ گزر گیا اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔کانفرنس کے آخری دن ۴ / جون کو میں نے یہ اعلان کیا تھا پھر ان کو ایک یاد دہانی کروائی گئی اور اس یاددہانی کا جواب دس پندرہ دن کے بعد ایک اور دستخط سے یہ آیا کہ ان صاحب نے جن کے دستخط سے یہ دعوت نامہ آیا تھا مجھے یہ کہا کہ میں ان کی طرف سے آپ کو یہ جواب لکھ دوں کہ چونکہ انہیں اسلام کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں اس لئے آپ نے جو پوائنٹس جو نکات اٹھائے ہیں ان کے متعلق جب تک وہ ان پادریوں سے مشورہ نہ کرلیں جو اسلام کے متعلق معلومات رکھتے ہیں اس وقت تک وہ جواب نہیں دے سکتے ان سے مشورہ کرنے کے بعد وہ جواب دیں گے۔