سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 606 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 606

606 میں Turin Shroud پر ہونے والی تحقیق بیان کی تھی۔اس کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ کی تحقیق میں اس کپڑے کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے۔یہ کپڑا جسے حضرت عیسی کا کفن کہا جاتا ہے اصلی ہے یا جعلی ہے اس کا فیصلہ عیسائی دنیا نے کرنا ہے۔اگر یہ جعلی ہے تو یہ سوال اُٹھے گا کہ اب تک عیسائی دنیا اسے اتنی اہمیت کیوں دیتی رہی ہے۔اور اس کے جعلی ہونے سے ان دلائل پر کوئی فرق نہیں پڑتا جنہیں ہم پیش کرتے ہیں۔اور اس کی حیثیت ایک گمشدہ کڑی کی نہیں ہے۔اس کے بعد حضور نے بنی اسرائیل کے دس گمشدہ قبائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان قبائل میں حضرت عیسی کی آمد کا مقصد ان کے ذہنوں کو اسلام کے لئے تیار کرنا تھا۔اس تاریخی خطاب کے آخر میں حضور نے فرمایا کہ میں آپ کو حضرت محمد مصطفے ﷺ کی پیروی کی طرف دعوت دیتا ہوں۔اس دنیا کی جھوٹی خوشیوں کا مقابلہ خدا تعالیٰ کی محبت سے نہیں ہوسکتا۔مختلف چرچ بھی اس کانفرنس کا جائزہ لے رہے تھے۔برطانیہ کے کیتھولک چرچ کے سر براہ کارڈینل ہیوم نے بیان دیا تھا کہ وہ اس کا نفرنس میں شرکت کے لئے ایک مبصر بھجوا رہے ہیں۔اور پولینڈ کے کیتھولک چرچ نے بھی اس میں شرکت کے لئے اپنے دونمائندے بھجوائے تھے۔برٹش کونسل آف چرچز نے اس کانفرنس سے پانچ روز قبل بیان جاری کیا تھا کہ وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ احمدی مسلمان اور عیسائی آپس میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں مشتر کہ خیالات پر اور حضرت عیسٹی کی اہمیت کے بارے میں ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کریں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تبادلہ خیالات پانچ مقامات پر یعنی لندن ، روم، ایک مغربی افریقہ کے دار الحکومت، وسطی ایشیا کے ایک دارالحکومت اور امریکہ میں کسی مقام پر ہونا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک خطبہ جمعہ میں اس کا نفرنس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔غرض اس رنگ کا پروپیگنڈا اور اشاعت وہاں ہوئی کہ انگلستان کے چرچ کو کچھ پریشانی سی لاحق ہو گئی۔چنانچہ انہوں نے کانفرنس سے تقریباً دس دن پہلے اپنی طرف سے ایک ریلیز ایک خبر اخبارات کو بھجوائی اور اس کے نیچے یہ نوٹ دیا کہ اسے فلاں تاریخ سے پہلے شائع نہ کیا جائے۔غالباً ۰ ۳ مئی یا یکم جون کی تاریخ تھی اور وہ ریلیز ہمارے مشن کو بھی بھجوا دی۔میں نے اس کا جواب تیار کیا۔کانفرنس میں میں نے بھی ایک چھوٹا سا مضمون