سلسلہ احمدیہ — Page 605
605 حضرت عیسی نبی یا خدا‘۔آپ نے بائیل کے حوالہ جات سے واضح فرمایا کہ حضرت عیسی کا مقام اور آپ کا دعویٰ ایک نبی ہونے کا تھا جو بنی اسرائیل کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اور آپ نے کبھی بھی خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔اور بائیبل میں خدا کے بیٹے ہونے کا محاورہ کئی نیک لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اور حضرت عیسیٰ کی تعلیمات میں تثلیث کا نام ونشان تک نہیں ملتا۔دو پہر کے وقفہ کے بعد صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا لیکچر شروع ہوا۔اس کا موضوع تھا ” بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑیں۔آپ نے اپنے لیکچر کی بنیاد حضرت عیسی کے اس قول پر رکھی کہ ” میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔( متی باب ۱۵)۔اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے مختلف محققین کی تحقیق کا نچوڑ بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل کے دس گم شده قبائل دراصل کشمیر، افغانستان اور تبت میں آباد ہوئے تھے اور حضرت عیسی نے اپنے وعدہ کے مطابق ان کی طرف سفر کیا اور ان کو خدا تعالیٰ کی طرف بلایا۔اس کے بعد مکرم شیخ عبدالقادر صاحب نے اپنا مقالہ پڑھا۔آپ نے عیسائیت پر تحقیق کے میدان میں اپنا ایک مقام پیدا کیا تھا۔آپ کے مقالہ کا موضوع تھا واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی“۔اس مقالہ میں آپ نے اناجیل اور Apocrypha اور دوسری تاریخی کتب کے بہت سے حوالے پیش کئے جن میں واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کا سراغ ملتا ہے۔اس کے بعد اس کا نفرنس کے کنو میز اور امام مسجد لندن مکرم بشیر احمد رفیق صاحب نے ایک قرار داد پیش کی جسے حاضرین نے منظور کیا۔اس قرارداد میں بھارت کی حکومت سے درخواست کی گئی کہ محلہ خانیار سری نگر میں واقعہ مقبرہ کو مذہبی تاریخی عمارت کا درجہ دیا جائے اور اس کے بعد دلچسپ سوال و جواب کا سلسلہ چلا۔کانفرنس کا تیسرا روز ایک خاص تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔اس روز انیس ممالک اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پندرہ سو شر کا ء نے کانفرنس کی کارروائی میں شرکت کی۔یہ کارروائی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطاب پر مشتمل تھی۔حضور نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ تعالی کی وحدانیت کے ذکر سے فرمایا۔اس کے بعد نجات اور عدل اور رحم کے مضمون پر روشنی ڈالی۔پھر حضور نے حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیب کی لعنتی موت سے نجات پر پُر معرفت خطاب شروع فرمایا اور مختلف دلائل بیان فرمائے۔اور ہجرت مسیح علیہ السلام کے متعلق پیشگوئی بیان فرمائی۔اس کا نفرنس کے دوران بہت سے محققین نے اپنے مقالوں