سلسلہ احمدیہ — Page 583
583 یوگینڈا کی نمائندگی کے لئے شامل ہوا، اس میں مسلم سپریم کونسل کے چیئر مین حاجی سلیمان، یوگینڈا کے چیف قاضی شیخ عبدالرزاق موٹو وو (Matovu) ، جو کہ پاکستان کے ایک دینی مدرسہ کے فارغ التحصیل تھے بھی شامل تھے۔لوگینڈا میں قرآن کریم کے ترجمہ کی اشاعت لوگینڈا یوگینڈا کے سب سے بڑے قبلے، بوگانڈا کی زبان ہے۔اب تک اس زبان میں قرآنِ کریم کا ترجمہ شائع نہیں ہوا تھا۔اگر چہ بوگانڈا قبیلہ کے خاطر خواہ لوگوں کی تعداد مسلمان تھی۔اس کاوش کی ابتدا ۱۹۶۵ء میں ہوئی جب یوگینڈا میں مبلغ سلسلہ مکرم عبد الکریم شر ما صاحب نے کچھ مقامی احباب کے تعاون کے ساتھ کچھ سپاروں کا ترجمہ کیا۔ان مقامی احباب میں مکرم ابراہیم سنفو ما صاحب قابل ذکر تھے۔لیکن چونکہ انہیں لوگینڈا پر مکمل عبور حاصل نہیں تھا اس لئے یہ خدشہ تھا کہ اس میں کچھ سقم نہ رہ گئے ہوں۔پھر پانچ سپاروں کا ترجمہ شائع ہوا اس کام میں ان دو ا حباب کے علاوہ مکرم زکریا کزیٹو صاحب ، سلیمان مولومبا (Mulumba) صاحب اور مکرم سلیمان مو آنجے صاحب (Mwanje) بھی شامل ہو گئے تھے۔پھر یوگینڈا کے مقامی احمدی مکرم ذکر یا کز نیٹو صاحب نے لوگینڈ ا زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کے لئے محنت شروع کی۔انہوں نے سواحیلی اور انگریزی کے تراجم سامنے رکھ کر تین چار سال میں ترجمہ کا کام مکمل کر کے مرکز سے اس کی اشاعت کے لئے درخواست کی۔قرآن کریم کا ترجمہ ایک نازک کام ہے جس کے لئے بہت احتیاط کرنا ضروری ہے۔چنانچہ مرکز نے مکرم جلال الدین قمر صاحب کی صدارت میں ایک بورڈ قائم کیا۔اس بورڈ میں زکریا کزیٹو صاحب کے علاوہ مکرم سلمان مو آنجے صاحب اور مکرم حاجی ابراہیم سینفو ما(Senfuma) صاحب بھی شامل تھے۔مکرم جلال الدین صاحب قمر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زبان دانی کا خاص ملکہ عطا ہوا تھا۔وہ لوگینڈا اور عربی اور سواحیلی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ان احباب کے علاوہ حسب ضرورت بہت سے غیر از جماعت احباب سے بھی مشورہ کیا جاتا تھا۔برسوں کی عرقریزی کے بعد یہ ترجمہ مکمل ہوا اور ۱۹۷۴ء میں اسے شائع کیا گیا۔اس ترجمہ کی اشاعت جماعت کے مخالفین کو بہت گراں گزری۔وہ پہلے ہی اس بات پر بہت برافروختہ تھے کہ جماعت احمد یہ اپنے آپ کو مسلم سپریم کونسل کے ماتحت کیوں نہیں لے کر آتی۔جب پہلے پہلے مسلم سپریم کونسل وجود