سلسلہ احمدیہ — Page 566
566 یعنی آئین میں وزیر اعظم کے لئے مقرر کردہ حلف نامے سے یہ واضح ہے کہ وزیر اعظم کو مسلمان ہونا چاہئے اور اسے قرآن اور سنت کے تمام تقاضوں اور تعلیمات پر یقین رکھنا چاہئے۔نہ کہ ایسا شخص جو کہ صرف نام کا مسلمان ہو اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنے حلف کی توہین کرتا پھرے۔۔۔۔(۳) جب ۱۹۷۳ء کے آئین میں یہ عجیب قسم کے حلف نامے رکھے گئے تو گزشتہ دساتیر کی نسبت ان کو مختلف اس لئے رکھا گیا تھا کہ کہیں کوئی احمدی ان عہدوں پر مقرر نہ ہو سکے اور اس طرح مولویوں کو اور ان کے پیچھے کام کرنے والے ہاتھوں کو خوش کیا گیا تھا لیکن اب انہیں حلف ناموں کی بنیاد پر اس آئین کے بنانے والے کے خلاف فیصلہ سنایا جا رہا تھا۔سپریم کورٹ میں اپیل جیسا کہ توقع تھی بھٹو صاحب نے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کی۔اب ان کے کیس کی پیروی کرنے والے وکلاء کی قیادت سابق اٹارنی جنرل بیٹی بختیار کر رہے تھے۔وہی بیچی بختیار جنہوں نے قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے سوالات کئے تھے۔وہ آج بھٹو صاحب کی سزائے موت کے خلاف اپیل کے لئے سپریم کورٹ میں پیش ہورہے تھے۔بیچی بختیار صاحب کی اعانت وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی تھی ، جس میں ملک کے سابق وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب بھی شامل تھے۔جب ۱۹۷۴ء کا واقعہ ہوا تو پیرزادہ صاحب اس سٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ بھی بنے تھے جس نے قومی اسمبلی میں کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ملک کے وزیر قانون کی حیثیت سے ۱۹۷۴ ء کی آئینی ترمیم میں ان کا بہت کچھ عمل دخل تھا۔پہلے تو یہ امید تھی کہ فیصلہ چھ سات ہفتوں میں ہو جائے گا مگر پھر یہ کارروائی دس ماہ چلی۔اس دوران ضیاء صاحب کی مارشل لاء حکومت اپنے پاؤں مضبوطی سے گاڑتی گئی۔انتخابات کرانے کا منصوبہ کھٹائی میں ڈال دیا گیا ۱۶ رمئی کو بھٹو صاحب کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے راولپنڈی جیل منتقل کیا گیا۔پھانسی کی سزا پانے تک بھٹو صاحب یہیں پر رہے۔کرنل رفیع صاحب یہاں پر ڈیوٹی پر تھے، انہوں نے اپنی کتاب