سلسلہ احمدیہ — Page 564
564 of justice is inextricably intertwined with an open trial, especially if it involves capital punishment۔۔۔۔۔۔۔۔۔The last and final messenger of God dispensed justice in an open mosque and not as a cloistered virtue۔" وو جب میں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ جب میرے دفاع کا وقت آیا تو کیوں میرے مقدمہ کو ایک کھلی کا رروائی سے ایک خفیہ کارروائی میں تبدیل کر دیا گیا ہے تو میں جوں پر یہ بات واضح نہ کر سکا کہ تشہیر اور انصاف میں کیا فرق ہے۔میں اس بات پر اصرار کر رہا تھا کہ سرِ عام کارروائی ہو کیونکہ کھلی کارروائی اور انصاف ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں خاص طور پر جب ایک قتل کے مقدمہ کی کارروائی کی جارہی ہو۔۔۔۔۔خدا کے آخری پیغمبر ﷺ بھی مسجد میں سر عام انصاف فرمایا کرتے تھے۔یہ کام کسی خفیہ گوشے میں نہیں کیا جاتا تھا۔بھٹو صاحب کے دلائل وزنی ہیں۔واقعی اگر انصاف ہو رہا ہے تو سب کو نظر آنا چاہئے کہ انصاف ہو رہا ہے۔خفیہ کارروائی یا جیسا کہ خود بھٹو صاحب نے الفاظ استعمال کئے ہیں IN CAMERA کارروائی سے تو یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جار ہے۔لیکن اس کتاب میں In Camera کے الفاظ پہلے بھی کہیں آئے ہیں۔کچھ برس پہلے بھٹو صاحب نے خود ہی قومی اسمبلی میں ایک کارروائی کے متعلق اعلان کیا تھا کہ وہ In Camera ہوگی۔یعنی جب پوری قومی اسمبلی نے جماعت کے وفد کا موقف سنا تھا۔یہ کارروائی تو بڑے اہتمام سے In Camera اور خفیہ کی گئی تھی اور اس کے بعد قرار داد منظور کی گئی تھی کہ احمد یوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے۔بھٹو صاحب نے فیصلہ کے بعد تقریر کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس کارروائی کو منظر عام پر لایا جائے گا۔لیکن تین سال گزر گئے ایسا نہیں کیا گیا۔پھر اگر بھٹو صاحب کا کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں انصاف کے کم از کم تقاضے پورے ہو گئے تھے۔آج انہی کے الفاظ ان کو ملزم کر رہے تھے۔اور دوسری طرف جماعت کے مخالفین کو کھلی چھٹی تھی