سلسلہ احمدیہ — Page 527
527 رپورٹ عوام کے لیے شائع نہیں کی گئی۔کیوں؟ کیا عوام کو انکوائری کا نتیجہ جاننے کا حق نہیں ہے جبکہ انکوائری کروائی ہی عوام کی تسلی کے لیے تھی۔رپورٹ کے شائع نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں جو سب سے بڑی غلط فہمی ہے اور یہ میری دوسری بات ہے ) وہ یہ ہے کہ میں نے احمدیوں کو کافر قرار دیا ہے جبکہ جن سوالوں پر مجھ سے انکوائری کرائی گئی تھی ان میں یہ سوال شامل ہی نہیں تھا۔سو میں نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں لکھا کہ احمدی کا فر ہیں یا نہیں۔(۲) ۲۴ اگست کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کوثر نیازی صاحب نے بیان دیا کہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں قومی اسمبلی جو فیصلہ کرے گی اس کے حل سے ملک کا وقار مزید بلند ہوگا اور اس فیصلہ میں ختم نبوت کو جو اسلام کی اساس ہے مکمل آئینی تحفظ حاصل ہو جائے گا(۳)۔ہم اس بات کا تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ممبرانِ اسمبلی اصل موضوع پر سوالات کرنے کی ہمت بھی نہ کر سکے تھے اور اتنے روز محض ادھر اُدھر کے سوالات کی تکرار میں وقت ضائع کیا گیا تھا۔لیکن جماعت کے مخالف علماء اس بات پر بہت اطمینان کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ قومی اسمبلی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں۔چنانچہ ۲۶ اگست کو جمعیت العلماء اسلام کے قائد مولوی مفتی محمود صاحب نے یہ بیان دیا کہ وہ اسمبلی میں ہونے والی کارروائی سے مطمئن ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مولوی حضرات کی مرضی بھی یہ تھی کہ اصل موضوع پر سوالات کی نوبت نہ آئے۔اسی روز پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر کوثر نیازی صاحب نے بیان دیا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے سوا کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں کیا جا سکتا۔اور یہ دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ اسلام کی خدمت کی ہے (۴)۔جماعت کے وفد پر سوالات ختم ہونے کے بعد کچھ دن کے لیے جماعت احمد یہ غیر مبایعین کے وفد پر سوالات ہوئے۔اور ۳۰ / اگست کو قومی اسمبلی پر مشتمل پیشل کمیٹی نے پھر اجلاس کر کے اس مسئلہ پر غور کیا یا کم از کم ظاہر کیا کہ اس پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ فیصلہ تو اس کارروائی کے آغاز سے قبل ہی ہو چکا تھا (۵)۔جماعت کے مخالف مولوی حضرات جلسہ کر کے یہ اعلان کر رہے تھے کہ یہ آخری موقع ہے کہ مرزائیت کے فتنہ کو حل کر دیا جائے۔چنانچہ ۲ ستمبر کو لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔اس میں مودودی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیت کے فتنے کو ختم کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ممکن ہے کہ یہ فتنہ ہمیں لے ڈوبے۔نورانی صاحب نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہماری مرضی کے