سلسلہ احمدیہ — Page 504
504 ہمدردی پائی جاتی تھی۔لیکن جب ترکی نے برطانیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تو مسلمانوں کا ردعمل کیا تھا اس کا اندازہ ان مثالوں سے ہوتا ہے۔مولانا محمد علی جوہر کے اخبار کامریڈ نے لکھا کہ انہیں ترکی سے ہمدردی ہے اور اس طرح ترکی کا برطانیہ کے مقابلے پر آنا تکلیف دہ بھی ہے لیکن پھر واضح الفاظ میں مسلمانوں کے بارے میں لکھا کہ ان کے جذبات کچھ بھی ہوں اس معاملے میں ان کا راستہ سیدھا سادا ہے۔انہیں اپنے ملک اور اپنے بادشاہ کے بارے میں اپنے فرائض کے بارے میں ذرہ بھر شبہ نہیں ہے۔ہم ایک سے زیادہ مرتبہ بغیر کسی جھجک کے یہ اظہار کر چکے ہیں کہ ترکی اور برطانیہ کی جنگ کی صورت میں ہندوستان کے مسلمانوں کا رویہ کیا ہو گا۔اس کو دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جہاں تک ہندوستان کے مسلمانوں کے نقطہ نظر کا تعلق ہے ، چونکہ وہ ہنر مجسٹی کنگ ایمپر رکے وفادار اور امن پسند رعایا ہیں ہمیں اعتماد ہے کہ مزید کسی یقین دہانی کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے جذبات پر بہت بوجھ ہے لیکن وہ یہ بات نہیں بھول سکتے کہ وہ ہندوستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا اور بہت ذمہ دار حصہ ہیں اور تاج برطانیہ کی رعایا ہیں۔اس بحران میں ترکی کا معاملہ کچھ بھی ہو ہندوستان کے مسلمان اس بات سے بخوبی 66 آگاہ ہیں کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے۔“ The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p12 پھر مولانا محمد علی جوہر نے کامریڈ کی ایک اشاعت میں پہلی جنگ عظیم کے حالات کا تجزیہ کر کے لکھا کہ اگر ان حالات میں برطانوی گورنمنٹ ہمیں سیلف گورنمنٹ بھی دے دے تو ہم نہایت عاجزی سے اس کو لینے سے انکار کر دیں گے کہ یہ اس کا وقت نہیں ہے۔مراعات کا مطالبہ اور ان کو تسلیم کرنے کا وقت امن کا زمانہ ہے۔ہم روس کے پولش نہیں ہیں ہمیں کسی رشوت کی ضرورت نہیں ہے۔The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p38 اگر ہم صرف پنجاب کی ہی مثال لیں تو یہاں پر لاہور ، جہلم اور ملتان اور دیگر مقامات پر بڑے