سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 499 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 499

499 صاحب نے فرمایا، ” مجھے تو ملتے نہیں حضور نے فرمایا۔نہیں ٹھیک ہے اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا ” تو آپ چیک کر لیں اس کو یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ اتنے روز کی بحث کے بعد جب کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو سوالات کرنے والے قابل حضرات کے وکیل کو متعلقہ حوالے بھی نہیں مل رہے تھے۔اور بعض اوقات تو یہ تاثر ملنے لگتا تھا کہ شاید ان کے ذہن میں ہے کہ یہ بھی جماعت احمدیہ کے وفد کی ذمہ داری ہے کہ ان کے کام کے حوالے تلاش کر کے ان کی خدمت میں پیش کرے تا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بسہولت اپنے اعتراضات کو پیش کر سکے۔کارروائی کا آخری دن کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی اور اب تک اصل موضوع یعنی ختم نبوت پر سوالات شروع ہی نہیں ہوئے تھے۔شاید کسی ذہن میں یہ امید ہو کہ آخری دن تو موضوع پر بات ہوگی لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ممبران اسمبلی آخری روز بھی یہ ہمت نہیں کر سکے کہ ادھر اُدھر کی باتوں کو چھوڑ کر اُس موضوع پر بحث کریں جس کا تعین خود انہوں نے کیا تھا۔پہلے حضور اقدس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ فارسی اشعار پڑھ کر ان کا مطلب بیان فرمایا۔ان اشعار پر پہلے اعتراض کیا گیا تھا۔اس کے بعد حضور نے اس اعتراض کا جواب شروع فرمایا جو اس بات پر کیا گیا تھا کہ فروری ۱۸۹۹ ء کو جب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عدالت کے کہنے پر ایک نوٹس پر دستخط فرمائے کہ آئندہ سے میں کسی کی موت کی پیشگوئی شائع نہیں کروں گا۔اور یہ ایک نبی کی شان کے مطابق نہیں ہے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ تھا کہ انگریز حکومت کے ایک پولیس افسر نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کولکھا کہ ایک گزشتہ مقدمہ میں مرزا غلام احمد کو سابق ڈپٹی کمشنر ڈگلس صاحب نے یہ کہا تھا کہ وہ آئندہ سے ایسی پیشگوئیاں شائع نہ کریں جس سے نقض امن کا اندیشہ ہو لیکن اب انہوں نے اس کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔اور اس کی تائید میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے بھی ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ مجھے خطرہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار مجھے نقصان پہنچائیں گے۔اور آخر میں عدالت نے مولوی محمد حسین بٹالوی کی اشتعال انگیز تحریروں کو بھی دیکھا۔اور مقدمہ کے آخر