سلسلہ احمدیہ — Page 496
496 تبدیل کر دیں۔لیکن اس وقت سپیکر صاحب نے اس خلاف عقل اعتراض پر کوئی توجہ نہیں دی۔جب کارروائی شروع ہوئی تو حضور نے قدرے تفصیل سے یہ تفاصیل بیان کرنی شروع کیں کہ جب ہندوستان کی آزادی کے دن قریب آ رہے تھے تو کس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور جماعتِ احمدیہ نے ہمیشہ مسلمانوں میں اتحاد کی کوششیں کیں اور ان کے مفادات کے لیے بے لوث خدمات سرانجام دیں۔جب یہ ذکر آگے بڑھتا ہوا فرقان بٹالین کے ذکر تک پہنچا تو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ سوالات کرنے والوں نے جو تاثرات قائم کرنے کی کوشش کی تھی وہ اس ٹھوس بیان کے آگے دھواں دھواں ہو کر غائب ہو رہے تھے۔اس لیے اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ آپ سے یہ سوال نہیں کیا گیا۔اس طرح باہر کی باتیں آجائیں گی۔حضور نے اس پر فرمایا کہ ٹھیک ہے میں یہ بیان بند کر دیتا ہوں۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ جماعت احمدیہ پر جس قسم کے اعتراضات کیے گئے تھے ان کے پیشِ نظر یہ تفصیلات بیان کرنا ضروری تھیں۔پھر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے موقف کی وضاحت کے لیے ان کا بیان کرنا ضروری ہے تو آپ بیان کر دیں۔اس پر حضور نے اہلِ کشمیر کے لیے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمات کا خلاصہ بیان فرمایا۔اس کے بعد جو سوالات شروع ہوئے تو وہ انہی سوالات کا تکرار تھا جو پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس موہوم امید پر انہیں دہرا رہے تھے کہ شاید جوابات میں کوئی قابل گرفت بات مل جائے۔ایک سوال یہ دہرایا گیا کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے جماعت نے اپنا میمورنڈم کیوں پیش کیا؟ اس کا کچھ جواب پہلے ہی آچکا ہے کہ ایسا مسلم لیگ کی مرضی سے ان کے کیس کی تائید کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ ۱۹۷۴ ء کے فسادات کے دوران حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بین الاقوامی تنظیموں سے یہ اپیل کیوں کی تھی کہ وہ پاکستان میں جا کر دیکھیں کہ احمدیوں پر کیا مظالم ہورہے ہیں۔اب جب کہ اس کا رروائی پر کئی دہائیاں گزر چکی ہیں یہ سمجھنا زیادہ آسان ہے کہ یہ سوال بھی خلاف عقل تھا۔خواہ وہ پارٹی ہو جس سے اٹارنی جنرل صاحب وابستہ تھے یا وہاں پر موجود دوسری سیاسی پارٹیاں ہوں ان سب نے بارہا بین الاقوامی تنظیموں سے یہ اپیل کی کہ وہ پاکستان میں آکر دیکھیں کہ وہاں ان پر کیا کیا مظالم ہو رہے ہیں۔کئی اہم مواقع پر بین الاقوامی مبصرین منگوائے گئے ہیں۔کئی مرتبہ ملک کے اندرونی مذاکرات میں بیرونی گروہوں کی اعانت لی گئی ہے۔یہ