سلسلہ احمدیہ — Page 495
495 شروع ہوئی۔اور پرانے حوالوں کی تکرار کے ساتھ مغرب کی نماز کے لیے ہونے والے وقفہ تک جاری رہی۔پھر ساڑھے آٹھ بجے دوبارہ کارروائی شروع ہوئی۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حوالے پڑھ کر سنائے کہ کس طرح جب کسی سمت سے اسلام پرحملہ ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک فتح نصیب جرنیل کی طرح اسلام کا کامیاب دفاع کیا۔اور حضور نے تفصیل سے بیان فرمایا کہ تاریخ میں جب بھی مسلمانوں کے حقوق کی خاطر آواز اُٹھانے اور جد وجہد کرنے کا وقت آیا تو جماعت احمدیہ ہمیشہ صف اول میں کھڑے ہو کر قربانیاں دیتی رہی تھی۔ابھی حضور یہ واقعات مرحلہ وار بیان فرمارہے تھے اور ابھی مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے لیے مسلمانوں کی خدمات کا ذکر ہونا تھا کہ اس روز کی کارروائی کا وقت ختم ہوا۔۲۳ اگست کی کارروائی اس روز کا رروائی شروع ہوئی اور ابھی حضور اقدس ہال میں تشریف نہیں لائے تھے کہ ممبرانِ اسمبلی نے اپنے کچھ دکھڑے رونے شروع کئے۔ایک ممبر اسمبلی صاحبزادہ صفی اللہ صاحب نے یہ شکوہ کیا کہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مرزا ناصر احمد لکھا ہوا بیان نہیں پڑھیں گے سوائے اس کے کہ وہ مرزا غلام احمد یا مرزا بشیر الدین کا ہو لیکن وہ کل ایک کاغذ سے پڑھ رہے تھے اور یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ یہ حوالہ کس کا ہے؟ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک چھوٹا سا سوال کرتے ہیں اور یہ جواب میں ساری تاریخ اپنی صفائی کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔جہاں تک صفی اللہ صاحب کی پہلی بات کا تعلق ہے تو شاید انہیں بعض باتیں سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو۔اور دوسری بات بھی عجیب ہے۔اعتراض جماعت احمدیہ پر ہورہے تھے۔کچھ اعتراضات ایسے تھے کہ ان کا صحیح تاریخی پس منظر پیش کرناضروری تھا۔کوئی بھی صاحب عقل اس بات کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا کہ بہت سی تحریروں اور واقعات کو سمجھنے کے لیے ان کے صحیح پس منظر کا جاننا ضروری ہے۔اصل مسئلہ یہ تھا کہ اعتراض تو پیش کیے جارہے تھے لیکن جوابات سننے کی ہمت نہیں تھی۔ایک اور ممبر ملک سلیمان نے کہا کہ کارروائی کی جو کا پی دی گئی ہے اس پر Ahmadiya issue لکھا ہوا ہے، جب کہ یہ احمدی ایشو نہیں بلکہ قادیانی ایشو ہے۔یہ ہم نے فیصلہ نہیں کیا کہ یہ احمدی ایشو ہے۔اور شاہ احمد نورانی صاحب نے اس کی تائید کی۔گویا یہ بھی پاکستان کی قومی اسمبلی کا حق تھا کہ وہ ایک مذہبی جماعت کا نام اس کی مرضی کے خلاف