سلسلہ احمدیہ — Page 491
491 اس کے دوران حضور نے فرمایا کہ یہ تصور ہی احمقانہ ہے کہ جبر کے ساتھ عقائد تبدیل کئے جائیں۔اب معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اس بات سے خوش نہ تھے کہ بحث اس روش کی طرف جائے چنانچہ انہوں نے کہا:۔وہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“ لیکن اس کے بعد وہ ایک مخمصے میں پڑ گئے۔ایک طرف تو وہ یہ کہہ بیٹھے تھے کہ جبر کے ذریعہ عقائد بدلنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور دوسری طرف وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم پر اعتراض بھی کرنا چاہتے تھے کہ مہدی اور مسیح کے ظہور کے ساتھ اسلام اپنی حقانیت اور دلائل کے ساتھ پھیلے گا نہ کہ کسی جنگ کے نتیجے میں۔اب اس مرحلہ پر جو گفتگو ہوئی وہ پیش کی جاتی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے فرمایا کہ مسلمانوں میں جو خونی مہدی کا انتظار ہے وہ ایک ایسے وجود کا انتظار ہے جو کہ امن کا انتظار کئے بغیر جہاد کا اعلان کر دے گا۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا: ایک یہ مطلب نہیں لیا جاتا۔بعض مسلمانوں کا یہ خیال ہے۔میری سمجھ کے مطابق جب مہدی آئے گا تو اسلام پھیل جائے گا۔جہاد کفار کے خلاف ہوتا ہے اس لئے ضرورت 66 نہیں رہے گی جہاد کی۔“ اب اٹارنی جنرل صاحب اس بات کی نفی کر رہے تھے جو انہوں نے چند لمحوں پہلے کی تھی۔ان کی بات کا صرف یہی مطلب لیا جا سکتا تھا کہ اسلام کو اپنے پھیلنے کے لئے قتال کی ضرورت ہے اور جب مہدی کے زمانہ میں اسلام پھیل جائے گا تو ایسے جہاد کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس پر حضور نے فرمایا: وہی پھر کہ اسلام کو ضرورت ہے اپنی اشاعت کے لئے۔“ وو اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا: نہیں میں تلوار کی بات نہیں کر رہا۔۔۔کہ جب مہدی آئے گا تو اسلام پھیل جائے گا“ اس پر حضور نے بات کو واضح کرنے کے لئے پھر سوال دہرایا۔کس طرح پھیلے گا۔وہاں پر لکھا ہوا ہے۔“ اب اٹارنی جنرل صاحب بے بس تھے انہوں نے چاروناچار ان الفاظ میں اعتراف کیا۔