سلسلہ احمدیہ — Page 476
476 تھی۔اور جب اسلام ترقی کرتا ہے تو یہ رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ ہی کا کارنامہ ہے۔کیا ان کے نزدیک یہی مناسب تھا کہ نعوذ باللہ اسلام ترقی نہ کرے بلکہ اسے زوال ہو۔کوئی بھی ذی ہوش اس سوچ کو قبول نہیں کر سکتا۔اس حوالہ کو کوئی صاحب فہم یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں رسول کریم ﷺ کی تو ہین کی گئی ہے۔اب صورت حال یہ تھی کہ وقفہ اس لیے کیا گیا تھا کہ پیشل کمیٹی تازہ دم ہوکر نئے ثبوتوں کے ساتھ جماعت پر وزنی اعتراضات اٹھانے کی کوشش کرے گی۔اور ابھی تک جو خفت اٹھانی پڑی تھی اس کا ازالہ ہوگا۔لیکن عملاً یہ ہوا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اس کا آغاز اس طرز پر فرمایا کہ بہت سے حوالے جو انہوں نے اب تک پیش کئے تھے جن پر ان کے اعتراضات کا دارو مدار تھا ان کی حقیقت کھولنی شروع فرمائی۔اکثر حوالے تو سرے سے ہی غلط تھے۔متعلقہ جگہ وہ عبارت ہی موجود نہ تھی۔یا ایک آدھا جملہ سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔جب پورے حوالے پڑھے گئے تو ان مقامات پر تو بالکل بر عکس مضمون بیان ہورہا تھا ، جس سے اس اعتراض کی ویسے ہی تردید ہو جاتی تھی۔سوالات کسی نے بھی لکھ کر دئیے ہوں، حوالہ کسی نے بھی نکالا ہو، بیچارے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ سوالات پیش کرنے پڑتے تھے اور جب ان کا جواب ملتا تو خفت بھی سب سے زیادہ ان کے حصہ میں آتی تھی۔اب تک تو ان کا رد عمل حیرانی یا زیادہ سے زیادہ بوکھلاہٹ کا تھا لیکن اس تازہ صورتِ حال نے ان کے رویہ میں چڑ چڑا پن بھی پیدا کر دیا تھا۔انہوں نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں پیش کی کہ ملک کی قومی اسمبلی پر مشتمل پیشل کمیٹی میں مسلسل غلط حوالے کیوں پیش کئے جارہے تھے۔آخر اتنی متواتر غلطیوں کا جواز کیا تھا؟ اس کا ذمہ دار کون تھا؟ جب حضور نے اور دو حوالوں کی نشاندہی فرمائی کہ جو مکتوبات احمدیہ کے ایک صفحہ اور الفضل کے ایک شمارے کی عبارت پر اعتراض اٹھائے گئے تھے تو اس صفحہ اور اس شمارے میں اس قسم کی عبارات نہیں ملیں ، تو اس پر اٹارنی جنرل صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔وہ کہنے لگے کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ وہاں نہیں ہے تو ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد ایسی عبارت ملی تو بڑا برا Inference ہوگا۔اور پھر انہوں نے جو کہا وہ ان کے اپنے ہی الفاظ میں درج کرنا مناسب ہوگا ”۔۔۔۔کیونکہ یہ presume کیا جاتا ہے کہ احمدیت کے بارے میں جتنی بھی