سلسلہ احمدیہ — Page 475
475 کی ہو رہی تھی۔مگر مولوی صاحب اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں پائے اور الفضل کی عبارت پڑھنی شروع کی۔حضور نے اس پر فرمایا کہ ہم اسے چیک کریں گے اور فرمایا۔۔نہیں خطبہ الہامیہ اصل کتاب ہے۔اس میں سے سنادیں۔ہاں اس میں سے سنا دیں بس۔“ شاید بہت سے پڑھنے والوں کو قومی اسمبلی کے اس انداز استدلال کا کچھ بھی سمجھ نہ آ رہا ہو اس لیے وضاحت ضروری ہے۔مولوی صاحب آسمبلی میں الفضل کے جس شمارے سے بزعم خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تقریر کا حوالہ پڑھ رہے تھے (۹۴)۔اس شمارے میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تقریر کا خلاصہ درج ہے مگر اس میں خطبہ الہامیہ یا ہلال اور بدر کی تمثیل کا ذکر ہی نہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا خطاب تو اس خوش خبری کے بارہ میں تھا کہ پارہ اول کا انگریزی ترجمہ تیار ہو گیا ہے۔وہ جو حوالہ پڑھ رہے تھے وہ حضرت غلام رسول راجیکی صاحب کی پنجابی تقریر کا ترجمہ تھا اور اس جگہ پر بھی خطبہ الہامیہ کا نام تک درج نہیں تھا۔مولوی صاحب نے خطبہ الہامیہ کا حوالہ پڑھنے میں یہ کہہ کر تردد کیا کہ یہ بہت لمبا ہے۔بہر حال حضور کے اصرار پر مولوی صاحب نے خطبہ الہامیہ سے عبارت پڑھنے کی کوشش از سر نو شروع کی۔اور جو حوالہ پڑھا وہ ملاحظہ ہو اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو۔پس انہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے قول میں کہ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ۔پس اس امر میں باریک نظر سے غور کر 66 اور غافلوں میں سے نہ ہو۔“ (۹۵) حضور نے اسی قت ارشاد فرمایا کہ یہ جو حوالہ ابھی سنایا گیا ہے اس میں اسلام کا ذکر ہے نبی اکرم ﷺ یابانی سلسلہ کا ذکر نہیں۔“ یہ بات بالکل واضح تھی اس لیے اٹھایا گیا اعتراض بالکل رفع ہو جاتا تھا۔کیا قومی اسمبلی کے ممبران کے نزدیک اگر اسلام ترقی کرتا چلا جائے تو یہ بات رسول کریم ﷺ کی شان کو کم کرنے والی