سلسلہ احمدیہ — Page 469
469 ربوہ کے جولڑ کے سٹیشن کے واقعہ میں شامل تھے انہوں نے بلاشبہ غلطی کی لیکن اگر یہ لڑ کے غنڈے تھے تو کیسے غنڈے تھے کہ کم از کم ڈیڑھ دو سو غنڈے دو گھنٹے کے قریب نشتر میڈیکل کالج کے لڑکوں کی پٹائی کرتے رہے اور کسی مضروب کی ہڈی تک نہ ٹوٹی اور نہ ہی کسی کو ایسی چوٹ آئی جسے ضرب شدید کہا جا سکے۔بہر حال جسٹس صمدانی صاحب کی بات سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ ان کی تحقیقات کے مطابق اس واقعہ سے جماعت احمد یہ یا امام جماعت احمدیہ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔اور اغلباً اس رپورٹ کو اس نتیجہ کی وجہ ہی سے شائع نہیں کیا گیا کیونکہ ان دنوں ہر طرف یہ راگ الاپا جا رہا تھا کہ یہ واقعہ جماعت احمدیہ اور امام جماعت احمدیہ نے ایک گہری سازش کے تحت کرایا ہے۔اور جب ہم نے دریافت کیا کہ اس ٹریبونل کے رو برو ۱۲۰ مقامات کی فہرست پیش کی گئی تھی جہاں پر فسادات ہوئے تھے تو صمدانی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ تو مجھے یاد نہیں کہ لسٹ پیش ہوئی کہ نہیں لیکن اس واقعہ کے بعد فسادات کا کوئی جواز نہیں تھا۔قومی اسمبلی کی کارروائی کے آغاز میں اٹارنی جنرل صاحب نے حضور سے کہا کہ آپ نے کچھ سوالات کے جوابات ابھی دینے ہیں۔یعنی پہلے جن حوالہ جات کو پیش کر کے اعتراضات اٹھائے گئے تھے ان میں سے کچھ کو چیک کر کے جواب دینا ابھی باقی تھا۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ جوابات میرے پاس ہیں۔اور ان کے جوابات دینے شروع کیے۔پہلا حوالہ الفضل ۳ جولائی ۱۹۵۲ء کا تھا کہ اس میں لکھا تھا کہ ہم کامیاب ہوں گے اور دشمن ہمارے سامنے ابو جہل کی طرح پیش ہوں گے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اس پر چہ کو دیکھا گیا اور اس میں لفظی طور پر یا معنوی طور پر اس قسم کا کوئی جملہ نہیں موجود۔ظاہر ہے کہ یہ وہ آغاز نہیں تھا جس کی خواہش اٹارنی جنرل صاحب یا ان کی ٹیم یا اسمبلی کے اراکین رکھتے تھے۔ان کے زاویہ سے بسم اللہ ہی غلط ہو رہی تھی۔اٹارنی جنرل صاحب ذرا بڑ بڑا کر بولے۔مرزا صاحب! آپ نے غور سے دیکھا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب کی حیرت پر حیرت ہے۔یہ کوئی پہلا حوالہ تو نہیں تھا جو کہ غلط پیش کیا گیا تھا۔لیکن آفرین ہے اٹارنی جنرل صاحب پر کہ اس کے بعد وہ فرمانے لگے کہ بعض دفعہ سال کی غلطی بھی ہو جاتی ہے ہوسکتا ہے جہاں ۱۹۵۲ ہے وہ ۱۹۵۱ ء ہو۔بعض دفعہ ۱۲ کی جگہ ۱۳ ہو جاتا ہے۔اب یہ عجیب صورت حال تھی کہ ایک حوالہ پیش کر کے جماعت احمدیہ پر الزامات لگائے جا رہے ہیں اور وہ حوالہ بیان کردہ