سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 461 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 461

461 تھی اور اس کمیٹی کا لائحہ عمل بھی طے کیا تھا۔باوجود جماعت کے مطالبہ کے جماعت کو مطلع نہیں کیا گیا تھا کہ کیا سوال کیے جائیں گے۔اور ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کے علم میں تھا کہ وہ کیا سوالات پوچھیں گے۔اور چھ روز سے مسلسل سوالات کا سلسلہ جاری تھا ابھی اس موضوع پر سوالات شروع بھی نہیں ہوئے تھے جن پر تحقیق کرنے کے لیے پوری اسمبلی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی تھی اور اٹارنی جنرل صاحب یہ فرمارہے تھے کہ انہیں مزید سوالات کی تیاری کے لیے چھ دن درکار ہیں۔یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس معرکۃ الآراء اسمبلی کے اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے علماء نے متعلقہ موضوع پر کیا ایک بھی سوال نہیں تیار کیا تھا کہ متعلقہ معاملہ پر سوال کئے بغیر ہی ان کے سوالات ختم ہو گئے۔حالانکہ انہیں تیاری کے لیے خاطر خواہ وقت پہلے ہی مل چکا تھا۔اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہ قدم اتنا اچانک کیوں اُٹھایا گیا۔نہ جماعت کے وفد نے درخواست کی کہ ہمیں تیاری کے لیے کوئی وقت درکار ہے نہ ممبرانِ اسمبلی کو پہلے کوئی عندیہ دیا گیا کہ یہ کارروائی کچھ دنوں کے لئے معطل ہونے والی ہے اور چائے کا وقفہ ہوا اور پھر یہ اعلان کر دیا گیا کہ اب کچھ دنوں کا وقفہ کیا جاتا ہے اور پہلے سے یہ وقفہ پروگرام میں شامل نہیں تھا۔اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس سے پہلے جو چائے کا وقفہ ہوا تھا وہ اٹارنی جنرل صاحب کی درخواست پر کیا گیا تھا۔غیر متعلقہ ہی سہی جو سوالات کئے گئے تھے وہ کوئی نئے سوالات نہیں تھے۔کوئی جماعت کے جوابات سے اتفاق کرے یا نہ کرے یہ بالکل علیحدہ بات ہے لیکن یہ سوالات گزشتہ اسی نوے سال سے کئے جارہے تھے اور جماعت کے مخالفین کا لٹریچر ان سوالات سے بھرا ہوا تھا اور جماعت کا لٹریچر ان کے جوابات سے بھرا ہوا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی طالب علم کو جماعت کی اور جماعت کے مخالفین کی چند کتابیں ایک دن کے لیے دے دی جائیں تو وہ ان سے بہتر سوالات تیار کر سکتا ہے۔اس پس منظر میں یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائی مخالفین کی امیدوں کے مطابق نہیں جا رہی تھی اور وہ خود اپنی کار کردگی سے مطمئن نہیں تھے۔اب جبکہ وہ اپنے سوالات کا نتیجہ دیکھ چکے تھے انہیں اب مزید تیاری کے لئے کچھ وقت کی اشد ضرورت تھی۔اور جب وقفہ کے بعد سوا بارہ بجے کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات کے آغاز ہی سے یہ بات واضح ہوگئی کہ واقعی انہیں اور ان کے معاونین کو کچھ وقفہ کی ضرورت