سلسلہ احمدیہ — Page 451
451 کارروائی میں شروع سے لے کر آخر تک ، الف سے لے کر لیے تک نہیں پائی جاتی۔بلکہ سوالات کرنے والے نامکمل حوالے اور جزوی تصویر سامنے رکھ کر کئی دن یہ کوشش کرتے رہے تھے کہ حضور ایسی کوئی بات فرمائیں جو موجب اعتراض ہو۔ہر مبر کو کارروائی کی کاپی ملتی تھی کہ وہ اپنی تسلی کر سکتا ہے بلکہ حکومت کے پاس تو اس کا رروائی کا آڈیوریکارڈ بھی ہونا چاہئے۔یہ ممبران تو حکومت سے مطالبہ بھی کر سکتے ہیں کہ اس آڈیو ریکارڈ کو منظر عام پر لایا جائے۔ہاں یہ مندرجہ بالا حصہ دس اگست ۱۹۷۴ ء کی کارروائی میں ہے۔اور اسی کو موڑ تو ڑ کر یہ بیچارے ممبران اپنے اس فیصلے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ ان میں سے کچھ اہم ممبران اسمبلی کے بیانات درج کریں ، پڑھنے والا اس سوال اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے اس جواب میں یہ باتیں تو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔(۱) سوال یہ تھا ہی نہیں کہ آپ غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں کہ نہیں ؟ سوال یہ تھا کہ اگر حقیقی مسلمان کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو اپنی تمام خواہشوں، ارادوں عملی اور ایمانی قوتوں کو خدا کے لئے وقف کر دے یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہو جائے۔اور وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اس کی سلطنت کے علومرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہیں بخوبی معلوم کر لے۔وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی مخلوق کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا ہو اور اپنے تمام وجود کو حوالہ بخدا کر دے۔اس کے تمام جذبات مٹ جائیں۔وہ خدا کی خاطر ہر بے عزتی کو قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور ہزاروں موتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور سب نفسانی تعلقات توڑ دے تو یہ مقام کن کو حاصل ہوسکتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو عقل کا استعمال کر کے یہ سوچنا چاہئے کہ اگر خدا کی طرف سے ایک مامور آئے اور ایک شخص یا ایک طبقہ اس مامور کا انکار کر دے بلکہ اس کی تکذیب کرے اور پھر بھی اگر وہ ان مدارج عالیہ کو حاصل کر سکتا ہے تو یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس مامور کی بعثت کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔اس سے خدا کے فعل پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اس نے مامور کیوں مبعوث کیا ؟ جب کہ اس کے بغیر ہی تمام مدارج حاصل کئے جاسکتے تھے۔(۲) جب حضور سے بیٹی بختیار صاحب نے سوال کیا کہ کیا تمام احمدی اس تعریف کے مطابق حقیقی مسلمان ہیں تو حضور نے اس کا جواب نفی میں دیا۔اس تعریف کی رو سے تو حضور نے تمام