سلسلہ احمدیہ — Page 445
445 تعاون کا اعلان کیا انہیں ملت اسلامیہ سے علیحدہ متصور کرنا چاہئے تو اس نامعقول کلیہ کی زد میں سرسید احمد خان ، سید احمد شہید ، مولوی اسماعیل شہید، غیر احمدی علماء اور پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے تمام مسلمان لیڈر آجائیں گے۔نہ صرف یہ بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت کے متعلق بھی یہی کہنا پڑے گا کہ انہیں ملت اسلامیہ سے علیحدہ سمجھنا چاہئے۔لیکن ماضی کے ان حقائق پر نظر ڈالے بغیر مخالفین جماعت مسلسل یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نے انگریز حکومت سے تعاون کیوں کیا ؟ بلکہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انگریز حکومت سے تعاون کے بارے میں جو جوابات دیئے گئے تھے ممبرانِ اسمبلی کی ان سے تسلی نہیں ہوئی تھی۔ہم نے جو حوالے درج کئے ہیں ان کے مطابق تو یہ سوال اُٹھتا ہی نہیں ہے کجا یہ کہ اس پر تسلی ہونے یا نہ ہونے کی بحث کی جائے۔ور اگست کے دن کے آخری حصہ کی کارروائی کا کچھ حصہ تو پہلے ہی بیان ہو چکا ہے۔اور اس روز کے آخری اجلاس کا بیشتر حصہ بھی اس امر پر بحث کرتے ہوئے گزرا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخالفین کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں کہ نہیں۔اس دن کی کارروائی کے آخر میں اٹارنی جنرل صاحب نے اکمل صاحب کے ایک شعر کا سہارا لے کر یہ اعتراض اٹھانے کی کوشش کی کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کے مطابق نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت علی سے زیادہ بلند ہے۔یہ بھی ایک پرانا اعتراض ہے اور اس کا جواب جماعت کے لٹریچر میں بار ہا بڑی تفصیل سے آچکا ہے۔لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ وہ یہ اعتراض اٹھانا چاہتے تھے کہ جماعت احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام آنحضرت ﷺ سے زیادہ سمجھتی ہے۔اور اس کی تائید میں حضرت مسیح موعود کا کوئی الہام یاتحریر نہیں پیش کی گئی ، خلفاء میں سے کسی کی تحریر یا قول پیش نہیں کر سکے پیش کیا بھی تو کیا اکمل صاحب کا ایک شعر۔اب اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ اسلام کے عقائد کیا ہیں تو کیا قرونِ اولیٰ کے کسی شاعر کا شعر پیش کیا جائے گایا یہ مناسب ہو گا کہ کسی قرآنی آیت یا حدیث شریف کا حوالہ پیش کیا جائے۔اس خلاف عقل طرز استدلال کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے اس اعتراض کی تائید میں حضرت مسیح موعود کی کوئی تحریر یا الہام ڈھونڈ ہی نہیں سکتے تھے۔وہاں تو ہر جگہ اس بات کا اعلان ہے کہ الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیثیت آنحضرت ﷺ کے ایک روحانی فرزند اور خادم کی ہے۔