سلسلہ احمدیہ — Page 446
446 اس دن کی کارروائی کے اختتام پر جو کچھ ہوا اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک جو جماعت احمدیہ کی طرف سے مختلف فرقوں کے علماء کے حوالے پیش کئے گئے تھے کہ کس طرح مختلف فرقوں نے دوسرے فرقوں کو کافر کہا ہے، اس سے مولوی حضرات کے کیمپ میں کافی بے چینی پیدا ہوئی تھی۔اور ایسا ہونا لازمی تھا۔کیونکہ ان کی ایک کوشش تھی کہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ احمدی تو غیر احمدی مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے اور اس لئے اب ہمیں یہ حق ہے کہ ہم آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیں۔لیکن اب تک یہ ہوا تھا کہ کثرت سے مختلف فرقوں کے علماء کے فتاویٰ پیش کئے گئے تھے جن میں انہوں نے ایک دوسرے کو کا فرقرار دیا تھا تو عقل یہ تقاضا کرتی تھی کہ پھر تو ان تمام فرقوں کو غیر مسلم قرار دے دینا چاہئے۔چنانچہ اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کو سنبھالنے کے لئے نورانی صاحب نے کہا کہ جو فتوے جماعت کے وفد نے یہاں پر سنائے ہیں۔ان کی Original کتابیں یہاں پیش کرنی چاہئیں۔اس کے بغیر ان کا بیان مکمل نہیں ہونا چاہئے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ وہ کل یہاں پر رکھدئیے جائیں یا لائبریری میں رکھ دیئے جائیں۔اب یہ صورت حال بھی نورانی صاحب کے لئے ناقابل قبول تھی کیونکہ اس طرح ان فتووں کی نمائش ہی لگ جانی تھی۔اس پر کچھ دیر بعد نورانی صاحب نے ایک اور نکتہ اٹھایا اور وہ یہ تھا کہ جو کفر کے فتووں کے حوالے جماعت کا وفد پیش کرے وہ اس صورت میں قبول کئے جائیں جب کہ دیو بند یا فرنگی محل وغیرہ کے Original اصل مہروں والے فتوے پیش کئے جائیں ورنہ اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ وفد نے گواہی غلط دی ہے۔اب یہ ایک بالکل بچگانہ فرمائش تھی۔جماعت احمدیہ نے مختلف فرقوں کی معروف کتب سے حوالے پیش کئے تھے اور کہیں نہیں کہا تھا کہ ہم دیو بند، فرنگی محل یا ملتان کے کسی مدرسہ کے Original مہر والے فتووں سے پڑھ رہے ہیں۔اور یہ فتوے جماعت احمدیہ کے پاس کیوں ہونے تھے۔یہ فتوے تو ان مولوی حضرات یا ان کے مدرسوں کے پاس ہی ہونے تھے۔ہاں اگر کسی کو شک تھا کہ کتب کے حوالے غلط دیئے گئے تھے تو وہ متعلقہ کتاب دیکھنے کا مطالبہ پیش کر سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا جار ہا تھا کیونکہ یہ سب فتاوی صحیح تھے۔اگر یہی کلیہ تسلیم کیا جاتا تو جماعت احمد یہ بھی یہ مطالبہ کر سکتی تھی کہ ہمارا بھی صرف وہی حوالہ صحیح سمجھا جائے گا جس پر جماعت کی مجلس افتاء کی مہر ہو، جماعت کی کسی کتاب میں درج کوئی فتوی ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ابھی اس پر بحث چل رہی تھی کہ پیکر صاحب