سلسلہ احمدیہ — Page 444
444 ہندوستان کے مسلمانوں میں برٹش گورنمنٹ کی بابت وفاداری کے احساس کو بڑھانا اور گورنمنٹ کے کسی قدم کے بارے میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو اسے دور کرنا۔(۸۰) اور جب پنجاب میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو اس کے بنیادی اغراض و مقاصد طے کیے گئے۔ان چار مقاصد میں سے ایک یہ تھا: مسلمانوں کے درمیان برٹش گورنمنٹ کی نسبت سچی وفاداری کا خیال قائم رکھنا اور بڑھانا۔(۸۱) واضح رہے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلانے کی مستحق تھی تو وہ مسلم لیگ تھی اور اس کے اغراض و مقاصد میں انگریزوں کی حکومت کے بارے میں کن نظریات کا اظہار کیا گیا تھا یہ مندرجہ بالا حوالے سے واضح ہے۔اور جب وائسرائے ہند لارڈ منٹو کی خدمت میں پنجاب مسلم لیگ نے ایڈریس پیش کیا تو اس میں ان الفاظ میں مسلم لیگ کی پالیسی کا اعادہ کیا گیا ” ہماری جماعت انگریزی تاج سے مستقل محبت وفاداری رکھتی ہے۔۔۔۔۔ہم اس موقع کو زور کے ساتھ یہ عرض کیے بغیر گزر جانے دینا نہیں چاہتے کہ بعض انقلاب پسندوں نے جوا نارکزم کا رویہ اختیار کیا ہے۔اس سے نہ صرف مسلمانانِ پنجاب کو بلکہ کل ہندوستان کی اسلامی جماعت کو دلی نفرت ہے۔(۸۲) اور ۱۹۱۱ء میں پنجاب مسلم لیگ نے جو ایڈریس لارڈ ہارڈنگ وائسرائے ہند کو پیش کیا اس میں یہ اقرار کیا : گزشتہ چند سال میں ہندوستان کا پولیٹیکل مطلع اس صوبہ میں سڈیشن اور بے چینی کے بادلوں سے مکدر ہو رہا تھا۔مسلمانوں نے کبھی ایک لمحہ کے لیے اپنی برٹش گورنمنٹ کی مستحکم عقیدت میں پس و پیش نہیں کیا۔(۸۳) اور ۱۹۱۲ء میں جب پنجاب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا تو اس کے خطبہ صدارت کا آغاز برٹش گورنمنٹ کی گوناں گوں برکات کے ذکر سے ہوا۔(۸۴) اگر یہی کلیہ تسلیم کر لیا جائے کہ جن مسلمانوں نے ہندوستان میں انگریز حکومت سے تعاون کیا یا