سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 440 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 440

440 ہے۔ایک نبی ہونے کی حیثیت سے بول رہے ہیں کہ مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفے صلحم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔یہ ان تینوں سے علیحدہ نبی ہو کر اپنے کلام کا ذکر کر رہے ہیں۔“ یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ اس حوالہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ امتی نبی ہونے کا نہیں تھا اور نہ آپ کا دعوی یہ تھا کہ آپ نے جو کچھ پایا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے پایا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حوالہ پر یہ اعتراض کسی طور سے نہیں اُٹھ سکتا یہاں صرف منبع وحی کا ذکر ہے۔اٹارنی جنرل صاحب کا مطلب کیا یہ تھا کہ امتی نبی کو یہ کہنا چاہئے کہ مجھ پر کسی اور خدا کی وحی اترتی ہے اور اس خدا کی وحی نہیں اترتی جس نے گزشتہ انبیاء سے کلام کیا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب کا یہ استنباط ان پاس دلائل کے فقدان کا ثبوت تو ہو سکتا ہے لیکن اسے کوئی سنجیدہ استنباط نہیں کہا جاسکتا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کتاب کے اسی صفحہ پر اس نام نہاد اعتراض کی مکمل تردید ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔“ بیٹی بختیار صاحب کو حضور نے اس عبارت کا مطلب سمجھانا شروع کیا مگر وہ بار بار یہ اصرار کر رہے تھے کہ اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک مختلف نبی کی حیثیت سے وحی آئی ہے۔حالانکہ اگر مذکورہ عبارت مکمل پڑھی جائے تو یہ عبارت تو صاف صاف یہ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کو امتی نبی کا مقام آنحضرت ﷺ کی اقتداء کی برکت سے ملا تھا۔اور آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔مگر اٹارنی جنرل صاحب کو اپنے استدلال پر اتنا یقین تھا کہ وہ اپنی بات پر مصر تھے اور یہاں تک کہہ گئے The words are quite simple and plane یعنی یہ الفاظ تو بالکل واضح ہیں۔بات تو ٹھیک تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ تو بالکل واضح