سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 434 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 434

434 حضرت مجددالف ثانی اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: پس حصول کمالات نبوت مرتا بعان را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثت خاتم الرسل علیہ وعلی آلہ وعلى جميع الانبياء والرسل الصلوات والتحیات منافی خاتمیت نیست ترجمہ: خاتم الرسل کی بعثت کے بعد کامل تابعداروں کو اتباع اور وراثت کے طریق سے کمالات نبوت کا حاصل ہونا خاتمیت کے منافی نہیں۔( مکتوبات امام ربانی حضرت مجددالف ثانی، باہتمام محمد سعیداحمد نقشبندی ص ۱۴۱) علامہ شہاب الدین تو ر پیشی جو ساتویں صدی کے بزرگ تھے تحریر فرماتے ہیں: اگر سوال کیا جاوے کہ حدیث نواس بن سمعان میں بعد وصف دجال اور اس کے ہلاک ہونے کے آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی بابت فرمایا يفتح باب الدار کہ وہ انصاف کا دروازہ کھولیں گے۔کمافی اصل الحدیث اور اسی حدیث میں حضرت عیسی کو نبی اللہ کہا۔اور دوسری جگہ فرمایا فیر غب نبی اللہ اس پر حضرت عیسی کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور تم اس سے نفی نبوت کرتے ہو۔جواب یہ ہے کہ ہم وہی شریعت کی نفی کرتے ہیں نہ الہام الہی کی اور ہم آخر زمانے میں یعنی آنحضرت ﷺ کے حکم نبوت کی نفی کرتے ہیں نہ اسم نبوت کی (عقائد مجدديه المسمى به الصراط السوى ترجمہ عقائد تور پیشی مصنفہ علامہ شہاب الدین تو ریشی ناشر اللہ والے کی قومی دوکان ص ۲۲۴) ملاعلی قاری اپنی کتاب الموضوعات الکبیر میں تحریر کرتے ہیں۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ وَ صَارَ نَبِيًّا ، لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ كَعِيْسَى وَالْخِضْرِ وَالْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلُهُ تَعَالَى وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنى أنه لا ياتي نبي بعده ينسخ ملته ولم يكن من امته 66 ترجمہ : اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے اور اسی طرح اگر ( حضرت ) عمر بھی نبی بن جاتے تو وہ دونوں حضرت عیسی"۔حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح