سلسلہ احمدیہ — Page 35
35 لانے کی کوشش کریں۔اپنے عرصہ وقف کے دوران جو کام ان سے لئے جائیں گے ان میں سے ایک بڑا کام قرآن کریم ناظرہ اور قرآنِ کریم با ترجمہ پڑھانا اور مقامی جماعت کی تربیت کرنا ہوگا۔حضور نے فرمایا کہ ملازم پیشہ احباب کو ہر سال کچھ عرصہ رخصت کا حق ملتا ہے وہ اپنے لئے رخصت لینے کی بجائے اسے اپنے رب کے لئے خرچ کریں۔اسی طرح کا لجوں اور سکولوں کے اساتذہ اور کالجوں کے سمجھدار طلباء بھی اپنی رخصتوں کے ایام اس منصوبہ کے ماتحت کام کرنے کے لئے پیش کریں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا کہ یہ کام بڑا اہم اور ضروری ہے اور اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سی جماعتوں کے ایک حصہ میں ایک حد تک کمزوری پیدا ہوگئی۔اور اس کمزوری کو جلد از جلد دور کرنا ہمارا پہلا فرض ہے۔اگر ہم تبلیغ کے ذریعہ نئے احمدی تو پیدا کرتے چلے جائیں لیکن تربیت میں بے توجہی کے نتیجہ میں پہلے احمدیوں کو کمزور ہونے دیں تو ہماری طاقت اتنی نہیں بڑھ سکتی جتنی اس صورت میں بڑھ سکتی ہے کہ پیدائشی احمدی، پرانے اور نو احمدی بھی اپنے اخلاص میں ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہوں۔(1) حضور کی ہدایات کے تحت تحریک وقف عارضی نے کام شروع کیا اور مکرم ومحترم مولانا ابوالعطاء & صاحب جالندھری نائب ناظر اصلاح و ارشاد اس کے انچارج مقرر ہوئے۔بہت سے سعادت مند دوستوں نے اپنے آپ کو عارضی وقف کے لئے پیش کیا۔وقف عارضی کا پہلا وفد یکم مئی ۱۹۶۶ء کور بوہ سے روانہ ہوا اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت فرمایا۔اس میں شامل ہونے والے خوش نصیب مکرم چوہدری محمد ابراہیم صاحب اور مکرم قریشی فضل الحق صاحب تھے۔(۱) اس تحریک کے ابتدائی دو ماہ میں کئی سو احباب اپنے آپ کو وقف عارضی کے لئے پیش کر چکے تھے۔انہیں پروگرام کے تحت مختلف مقامات پر بھجوایا جاتا۔حضور کی منظوری سے جگہ کا تعین ہوتا اور حضور ہی وفد کا امیر مقرر فرماتے۔مئی ۱۹۶۶ء میں پندرہ افراد کو مختلف مقامات پر بھجوایا گیا۔ان احباب نے ان جماعتوں میں تربیتی اور تبلیغی فرائض سر انجام دیئے اور احباب جماعت کو قرآنِ کریم پڑھانے کا اہتمام کیا۔(۷) قرآنی علوم کو عام کرنے کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ احباب ایک مختصر وقت کے لئے مرکز آئیں اور قرآن کریم کا علم حاصل کریں۔اس غرض کے لئے ۱۹۶۴ء سے ربوہ میں فضل عمر درس