سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 415 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 415

415 ہے، اس کشف کی تعبیر کرتے ہوئے خدائی کا دعویٰ تو اس سے کسی طرح بھی نہیں نکالا جاسکتا۔اور یہ حقیقت کس طرح نظر انداز کی جاسکتی ہے کہ خواب اور کشف تعبیر طلب ہوتے ہیں۔اور جب آئینہ کمالات اسلام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کشف بیان فرمایا تو خود یہ امر بھی تحریر فرما دیا کہ اس کشف سے وہ عقیدہ مراد نہیں ہے جو وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذہب ہے اور نہ وہ مطلب نکلتا ہے جو حلولی عقائد رکھنے والوں کا مذہب ہے بلکہ اس میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب التواضع) جب اس اجلاس کی کارروائی ختم ہو رہی تھی تو پھر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک حوالہ پڑھنے کی کوشش فرمائی۔یہ سمجھ تو بعد میں آئی کہ وہ اعتراض کیا کر رہے ہیں لیکن پہلے ہی انہوں نے خود ہی اعلان کیا کہ انہیں صحیح طرح معلوم نہیں کہ یہ حوالہ کہاں کا ہے۔ابھی انہوں نے کچھ نامکمل سے جملے ہی پڑھے تھے جن سے صرف یہی سمجھ آتا تھا کہ اس حوالہ میں ان کے مطابق خوبصورت عورت کے الفاظ آتے تھے۔“ کہ حضور نے فرمایا کہ ہمارے علم میں ایسا حوالہ نہیں ہے۔اس سے اٹارنی جنرل صاحب کچھ اور گڑ بڑا گئے اور کہا کہ 66 نہیں اس واسطے explanation ضروری ہے۔“ حضور نے فرمایا وو نہیں چیک کریں گے ناں۔“ اس پر اٹارنی جنرل صاحب کچھ اور ڈگمگا گئے اور کہا اگر یہ چیز ہی نہیں تو میں آپ سے سوال نہیں پوچھوں گا۔“ اس پر حضور نے فرمایا ” ہمارے علم میں کوئی نہیں لیکن میں نے آپ کو بتایا کہ یہ نہ تسلیم کرنے کے قابل ہے۔نہ تردید کرنے