سلسلہ احمدیہ — Page 402
402 مقدمہ چلایا جائے۔اور اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ پاکستان کی افواج کی ہائی کمان نہ حالات کا صحیح تجزیہ کر پارہی تھی اور نہ انہیں صحیح طرح ملک کو درپیش خطرات کا کوئی اندازہ تھا اور نہ افواج جنگ کرنے کے لیے کسی طور پر تیار تھیں۔مالی بدعنوانی کے الزامات اور غیر آئینی طریقوں سے اقتدار حاصل کرنے کے شواہد سامنے آئے تھے۔دورانِ جنگ مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کی گئی۔آپریشن کے دوران مشرقی پاکستان میں قتل و غارت اور دیگر مظالم کی نشاندہی کی گئی۔اور حکومت سے کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ان امور پر تفصیلی تحقیقات بلکہ کھلا مقدمہ چلایا جائے اور قصور وار افراد کو سزا دی جائے۔اور اس کمیشن نے اس رپورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین پر بھی تنقید کی تھی کہ انہوں نے کیوں اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا اور کہا کہ وہ مغربی پاکستان سے کسی کو ڈھا کہ میں اسمبلی کے اجلاس میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔اور اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے اُدھر تم ادھر ہم کا نعرہ کیوں لگایا تھا۔ان عوامل کی وجہ سے آئینی طریقوں کے راستے بند ہو گئے اور حالات بگڑتے گئے۔یہ رپورٹ حکومت کے حوالے کی گئی لیکن حکومت نے اس رپورٹ کو خفیہ رکھا اور عوام کوان حقائق سے لاعلم رکھا۔اور اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات بھی نہیں چلائے گئے اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی گئی۔بلکہ اس رپورٹ میں جن افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے اور اسے دوام بخشنے کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کیے اور رشوت ستانی سے بھی کام لیا ، ان میں سے ایک کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوج کا نیا سر براہ مقرر کر دیا۔جیسا کہ کمیشن نے پہلے سفارش کی تھی جب وہ جرنیل جو جنگی قیدی بنے ہوئے تھے ملک واپس آگئے تو حکومت نے اس کمیشن کو دوبارہ کام شروع کرنے کا کہا تا کہ ان سے تحقیقات کر کے رپورٹ کے نامکمل حصہ کو مکمل کیا جائے۔چنانچہ جب باقی جرنیل قید سے ملک واپس آگئے تو اس کمیشن کا دوبارہ احیاء کیا گیا کہ تا کہ تحقیقات مکمل کر لی جائیں۔یہ حکم ۲۵ مئی ۱۹۷۴ء کو جاری ہوتا ہے اور چند روز بعد ہی جماعت کے خلاف فسادات شروع ہو جاتے ہیں یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شروع کرا دیے جاتے ہیں۔اور اسمبلی کی اس پیشل کمیٹی کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل صاحب اس جریدہ کے حوالے سے یہ الزام سامنے لا رہے ہیں کہ ملک کو دولخت کرنے کی ذمہ داری احمدیوں پر عاید ہوتی ہے