سلسلہ احمدیہ — Page 401
401 احمدی تھے۔اور اس پس منظر میں اگر احمدیوں کے خلاف موجودہ فسادات شروع ہو گئے ہیں تو یہ بات قابلِ حیرت نہیں ، اگر چہ قابل مذمت ضرور ہے۔ہم یقیناً اس بات سے متفق ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ اور پاکستان کا دولخت ہو جانا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔اور جو گروہ بھی اس کا ذمہ دار تھا اس کو سزا ملنی چاہئے تھی۔لیکن ہم ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب سانحہ ہو چکا تھا تو اس کے معا بعد ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی تھی۔اور اٹارنی جنرل صاحب اسی پارٹی کی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے اور اسمبلی کی اکثریت کا تعلق بھی اس پارٹی سے تھا۔جیسا کہ توقع تھی حکومت نے ۱۲۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو جب کہ ابھی مشرقی پاکستان میں شکست کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا ایک کمیشن قائم کیا تا کہ وہ اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعین کرے۔اس کمیشن کی سربراہی پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے۔حمود الرحمن صاحب کا تعلق بنگال سے تھا۔پنجاب اور سندھ کے چیف جسٹس صاحبان اس کمیشن کے ممبر تھے اور عسکری پہلوؤں کے بارے میں مدد دینے کے لیے مکرم لیفٹینٹ جنرل الطاف قادر صاحب مقرر کئے گئے۔اس کمیشن نے تمام واقعات کی تحقیق کر کے ۸ / جولائی ۱۹۷۲ء کو اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی تھی۔یعنی اسمبلی کی اس کمیٹی کے کام شروع کرنے سے دو سال قبل حکومت کے پاس یہ رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار کون تھا۔اور اٹارنی جنرل صاحب جس حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے وہ بخوبی جانتی تھی کہ مجرم کون کون تھا۔مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر حکومت نے یہ رپورٹ شائع نہیں کی اور ۱۹۷۴ء میں یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی تھی۔اور چند دہائیوں بعد یہ رپورٹ جو کہ خفیہ رکھی گئی تھی پاکستان کی حکومت کی مستعدی کے باعث بھارت پہنچ گئی اور وہاں شائع ہوگئی اور اس کے بعد پھر حکومت پاکستان بھی اس رپورٹ کو منظر عام پر لے آئی۔اب ہم رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اس میں یہ لکھا ہے کہ احمدی اس ملک کو دولخت کرنے کے ذمہ دار تھے؟ ہر گز نہیں۔اس رپورٹ میں کہیں جماعت احمدیہ پر یہ مضحکہ خیز الزام نہیں لگایا گیا۔اس رپورٹ میں اس سانحہ کا سب سے زیادہ ذمہ دار اس وقت کی حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے سربراہ جنرل یحیی خان صاحب اور ان کے ساتھی جرنیلوں کو قرار دیا تھا۔اور یہ سفارش کی تھی ان پر