سلسلہ احمدیہ — Page 394
394 حضرت خلیفہ امیج الثالث نے فرمایا ” ایک ایک کو لے لیتے ہیں جو ۲۹ جنوری ۱۹۱۵ء کا آچکا ہے یہ پڑھ کر سنا دیجئے۔میں Verify کر دیتا ہوں۔اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ کل جو آخر میں پڑھا تھا وہ پہلے پڑھتا ہوں۔ایک روز پہلے انہوں نے ایک حوالہ پیش کیا تھا اور کتاب کا نام ” شریعتِ نبوت“ بیان فرمایا تھا۔آج اس حوالہ کی عبارت کتاب کا نام اور صفحہ نمبر سب نیا جنم لے چکے تھے۔اب انہوں نے یہ عبارت پڑھی ” اسلامی شریعت نبی کے جو معنی کرتی ہے۔اسکے معنی سے حضرت مرزا غلام احمد ہرگز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔(حقیقۃ النبوت صفحہ ۱۷۴)۔اب اس بحث سے ان کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حقیقی نبی لکھا گیا ہے اس لیے اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔کیونکہ جب ایک روز قبل یہ حوالہ پیش کیا گیا تھا تو اس وقت شرعی اور غیر شرعی انبیاء کا تذکرہ چل رہا تھا۔پہلی تو یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت سلیمان ، حضرت ایوب ، حضرت یعقوب اور بہت سے دوسرے انبیاء شریعت نہیں لائے تھے تو کیا یہ سب حقیقی نبی نہیں تھے، کیا ان کو غیر حقیقی انبیاء کہہ کر ان کی شان میں گستاخی کی جائے گی۔یا اگر کسی بھی لحاظ سے یہ کہا جائے کہ یہ حقیقی انبیاء ھے تو اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ ان کو شرعی نبی سمجھا جا رہا ہے؟ اور اسی کتاب میں جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تصنیف ہے اس بات کی وضاحت بار بار کی گئی ہے۔اس کا صرف ایک حوالہ پیش ہے۔۔پس حضرت مسیح موعود نے بھی عوام کو سمجھانے کے لئے انہی کی فرض کردہ حقیقت کو تسلیم کر کے انہیں سمجھایا ہے کہ میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ کوئی شریعت جدیدہ لایا ہوں۔بلکہ ان معنوں کی رو سے میں مجازی نبی ہوں۔یعنی شریعت لانے والے نبیوں سے ایک رنگ میں مشابہت رکھتا ہوں۔گو شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی جدید شریعت نہیں۔اور یہی مضمون اس کتاب میں بیسیوں جگہ پر بیان ہوا ہے۔اس کے بعد ۲۹ جنوری یا ۲۶ / جنوری کے اُس پر اسرار حوالہ کا ذکر شروع ہوا جس کی فرضی ٹوٹی پھوٹی عبارت ایک روز قبل پڑھی گئی تھی۔اگست کی کارروائی میں یہ حوالہ ۲۹ جنوری ۱۹۱۵ء کا بنا ہوا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرتبہ پھر اس حوالے کی عبارت دہرائی۔حضور نے فرمایا کہ اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔اصولاً تو سوال پیش کرنے والوں کے پاس حوالہ یا ثبوت ہونا