سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 392 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 392

392 اور اب اس سے انکار ہے اور اب آپ خدا بنتا ہے۔۔۔صحیح معنے یہی ہیں کہ نبوت کے دعویٰ سے مراد دخل در امور نبوت اور خدائی کے دعویٰ سے مراد دخل در امور خدائی ہے جیسا کہ آجکل عیسائیوں سے یہ حرکات ظہور میں آرہی ہیں۔ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا تو ڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اسپر آیتیں نازل ہو رہی ہیں۔اور ایک فرقہ خدائی کے کاموں میں اس قدر دخل دے رہا ہے کہ گویا وہ خدائی کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے۔(۵۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے لیکن اس حوالہ کا ایک حصہ پڑھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ سوال اٹھانا کہ کیا اس کی ضمیر آنحضرت ﷺ کی طرف جاتی ہے؟ اور پھر اس سوال کود ہرانا یا پرلے درجہ کی بے عقلی ہے یا ایک ایسی خوفناک گستاخی کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ایک بات تو ظاہر ہے کہ ان سوالات کو پیش کرنے سے قبل کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی تھی۔ان احادیث میں ایک اہم پیشگوئی بیان ہوئی ہے اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات اس عظیم پیشگوئی کی واضح تصدیق کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کی ایک لطیف تشریح بیان فرما رہے ہیں لیکن پاکستان کے ممبران اسمبلی میں سے اس سوال کو اُٹھانے والے سمجھے بھی تو کیا سمجھے۔ان احادیث نبویہ ﷺ میں اور مذکورہ عبارت میں ایک لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس دور میں اعجازی طور پر پورا ہوکر آنحضرت ﷺ کا ایک زندہ نشان بن چکا ہے۔لیکن یہ علمی مضمون پاکستان کی قابل قومی اسمبلی میں سوالات مہیا کرنے والوں کی عقل سے بالا تر تھا۔اس کے بعد کچھ دیر تک اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث اُٹھائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ شرعی نبوت کا تھا یا غیر شرعی نبوت کا تھا۔اس معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور تحریرات بالکل واضح ہیں۔آپ کا دعوئی امتی نبی کا تھا۔آپ نے بار ہا واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان فرمایا تھا کہ اب آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کے احکامات کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہوسکتا اور اب جو بھی کوئی روحانی مدارج حاصل کرے گا وہ آنحضرت ﷺ کی اتباع اور فیض سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔اس بات کو بحث بلکہ کبھی بھٹی کا موضوع بنانا ایک لایعنی بات تھی۔اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پڑھ کر