سلسلہ احمدیہ — Page 30
30 تبلیغی مراکز کا منصوبہ بند ہونے والے مراکز کے متعلق حضور کا اصولی ارشاد بہت سے ممالک ایسے تھے جہاں پر حضرت مصلح موعودؓ کے مبارک دور میں مبلغ بھجوا کر تبلیغ کا آغاز کیا گیا لیکن قانونی مجبوریوں یا اس ملک میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے کچھ ہی عرصہ بعد یہاں پر یہ کام جاری نہیں رہ سکا۔لیکن جماعت احمد یہ اپنے اس فرض سے غافل نہیں رہ سکتی کہ خدمت کا جو کام حضرت مصلح موعودؓ نے شروع فرمایا تھا ، جب بھی موقع ملے اس کو پھر سے شروع کریں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ میں ان کے متعلق ارشاد فرمایا: دنیا کی مختلف اقوام میں جو مختلف انقلابات برپا ہوئے ان کے نتیجہ میں ہمیں نو جگہوں پر اپنے تبلیغی مراکز کو بند کرنا پڑا۔اور جو ملک جن میں تبلیغی مراکز بند کئے گئے ہیں، فرانس، ہنگری، جزائر سلی، اٹلی ، روس، ایران، جاپان ، مسقط اور مصر ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان جگہوں پر احمدی نہیں۔ان سب جگہوں پر احمدی موجود ہیں لیکن ہمارے با قاعدہ تبلیغی مراکز وہاں موجود نہیں۔ہمارے مشنری اور مبلغ وہاں نہیں۔اس وقت جو سب سے پہلا کام میں نے اور آپ نے کرنا ہے۔اور جس کے بغیر ہمیں چین نہیں آنا چاہئے۔وہ یہ ہے کہ وہ تمام مراکز جو کسی نہ کسی وقت حضرت مصلح موعودؓ نے کھولے تھے۔لیکن بعد میں کسی مجبوری کی وجہ سے انہیں بند کرنا پڑا جتنی جلدی ہو سکے اور جب بھی ممکن ہوا نہیں دوبارہ کھولا جائے۔“ مستقبل قریب میں نے تبلیغی مراکز کا منصوبہ اسی طرح ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ کی ۲۱ دسمبر کی تقریر میں حضور نے مستقبل قریب میں نئے تبلیغی مرا کز کھولنے کا منصو بہ بیان فرمایا۔حضور نے ارشاد فرمایا: پھر جن جن ممالک میں نئے مشن کھولنے کی ضرورت ہے، وہاں نئے مشن کھول دیئے جائیں۔اس وقت تک جو مطالبات مختلف جگہوں سے آئے ہیں۔ان کے مطابق سات